مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف طاقت کے استعمال کی دھمکی کے بعد مبصرین نے مشرق وسطی کی سیکورٹی کو خطرات لاحق ہونے کا انتباہ کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق، مشرق وسطی کے سیکورٹی امور کے صہیونی ماہر ڈینی سیترینوفٹش نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوری ایران کے خلاف کسی بھی اقدام کی صورت میں نہ صرف امریکی اہداف حاصل نہیں ہوں گے بلکہ خلاف توقع نتائج برامد ہوسکتے ہیں۔
صہیونی فوج میں ایران ڈیسک کے سربراہ رہنے والے سیترینوفٹش نے کہا کہ ایران پر حملے کے بارے میں فیصلے سے پہلے امریکہ ایک بنیادی سوال کا جواب تلاش کرنا ہوگا جو کہ اس کے ہدف سے متعلق ہے۔ کیا یہ اہداف حاصل ہوسکتے ہیں یا نہیں؟
انہوں نے کہا کہ امریکہ کے اہداف ابھی تک مشخص نہیں۔ کیا امریکہ ایران میں اسلامی نظام بدلنا چاہتا ہے؟ کودیتا یا داخلی بدامنی پیدا کرنا چاہتا ہے؟ یا صرف ایٹمی پروگرام پر کوئی معاہدہ کرنا چاہتا ہے؟ جب تک ان اہداف کو مشخص نہ کیا جائے، فوج کو استعمال کرنے کا کوئی فائدہ نہیں اور کاروائی کی صورت میں برائے نام ہوگی۔
صہیونی تجزیہ کار نے مزید کہا کہ ایران پر کوئی محدود حملہ بھی ہو تو کشیدگی مزید بڑھے گی اور تصادم میں اضافہ ہوگا۔ ایران اگرچہ ایران جنگ کا خواہاں نہیں ہے تاہم بیرونی دباو بڑھے تو ایسا ردعمل سامنے آئے گا جو منصوبہ بنانے کی تصور سے بھی بالاتر ہوگا۔ تاریخی تجربات سے واضح ہوا ہے کہ حکومتیں بحرانی اوقات میں دوسروں کے اندازوں سے بالاتر عمل کرتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صرف فضائی حملوں سے حکومت نہیں بدلے گی۔ بنیادی سیاسی تبدیلی کے لئے طویل مدت اور اندرونی سطح پر منصوبہ بندی کرنا ضروری ہے۔ مختصر مدت کی کاروائیوں سے کوئی نتیجہ نہیں ملے گا۔
انہوں نے کہا کہ اگر امریکہ جوہری معاہدے کا خواہاں ہے تو فوجی حملہ نہ صرف کارامد نہیں ہوگا بلکہ سفارتی مواقع کو بھی ضائع کردے گا۔ ایران اقتصادی اور سیاسی دباو کے باوجود ایک بار پھر خود کو سنبھالنے اور ایک بنیادی کھلاڑی ثابت کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔
آپ کا تبصرہ