مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حالیہ فسادات کے دوران ہونے والی بدامنی میں شہید ہونے والے پولیس اہلکار کو چند روز قبل صوبہ ایلام میں اسنائپر فائرنگ کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔
واقعے سے قبل سکیورٹی اداروں نے ایلام کے متعدد شہروں میں دہشت گرد گروہ پژاک کی سرگرمیوں کے بارے میں خبردار کیا تھا۔
اسی طرح گزشتہ روز صوبہ کرمانشاہ میں سپاہ پاسداران انقلاب کے آٹھ اہلکار شہید ہوئے۔
کرمانشاہ پولیس ذرائع نے خبر رساں ادارے فارس کو بتایا کہ پژاک کے مسلح عناصر قصری شیرین اور سومار کے علاقوں میں داخل ہو کر کارروائیوں میں مصروف تھے، تاہم بارڈر فورسز کی بروقت کارروائی کے بعد دہشت گرد فرار ہونے پر مجبور ہو گئے۔
حالیہ دنوں میں دہشت گرد گروہ جیشالظلم نے ایک پولیس افسر کو اس کے کام کی جگہ جاتے ہوئے القاعدہ طرز پر ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا، جس سے اس گروہ کے منظم اور پرتشدد عزائم مزید واضح ہو گئے ہیں۔
سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ ان واقعات سے ثابت ہوتا ہے کہ حالیہ بدامنی محض احتجاج نہیں بلکہ منظم دہشت گردانہ کارروائیوں کا حصہ ہے، جن کے پیچھے بیرونی حمایت یافتہ مسلح گروہ سرگرم ہیں۔
حکام کے مطابق ان عناصر کے خلاف بھرپور اور فیصلہ کن کارروائی جاری ہے۔
آپ کا تبصرہ