1 جنوری، 2026، 5:22 PM

بحیرہ خزر: سرحدی رکاوٹوں کے مقابلے میں ایران - روس تجارت کا محفوظ اور پائیدار راستہ

بحیرہ خزر: سرحدی رکاوٹوں کے مقابلے میں ایران - روس تجارت کا محفوظ اور پائیدار راستہ

ایران اور روس کے درمیان بڑھتی ہوئی تجارت کے پیشِ نظر، زمینی راستوں پر آذربائیجان کی جانب سے پیدا کردہ رکاوٹوں اور کسٹم کی طویل قطاروں کے حل کے لیے ماہرین نے بحیرہ خزر کے سمندری راستے کو سب سے محفوظ اور سستا متبادل قرار دے دیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران اور روس کے درمیان مستقبل میں تجارتی حجم میں متوقع اضافے اور دوسری جانب آذربائیجان کے زمینی راستوں پر کسٹم کی طویل قطاروں اور رکاوٹوں جیسے چیلنجز کے پیشِ نظر، بحیرہ خزر سے بھرپور فائدہ اٹھانا ایک ناگزیر ضرورت بن چکا ہے۔ یہ سمندری راستہ دونوں ممالک کے درمیان ایک براہِ راست، محفوظ اور پائیدار تجارتی گزرگاہ کے طور پر باہمی مبادلات کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ ہمسایہ ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات کی ترقی، ثقافتی ہم آہنگی اور نقل و حمل کے اخراجات میں کمی کی وجہ سے خارجہ تجارت کو وسعت دینے کا سب سے محفوظ راستہ ہے۔ یہ روابط نہ صرف مورد ہدف منڈیوں تک تیز تر رسائی فراہم کرتے ہیں بلکہ ملکی مصنوعات کی ترسیل میں اضافے، غیر ملکی زرِ مبادلہ کے حصول اور پائیدار روزگار کی فراہمی کا ذریعہ بھی بنتے ہیں۔ موجودہ حالات میں ایرانی معیشت کو برآمدی منڈیوں میں تنوع لانے اور تیل کی آمدنی پر انحصار کم کرنے کی سخت ضرورت ہے، اسی لیے حالیہ برسوں میں سٹرٹیجک شراکت داروں کے ساتھ تعلقات کو ترجیح دی گئی ہے۔ روس، ایران کا شمالی ہمسایہ اور یوریشیا خطے کا سب سے گنجان آباد ملک ہونے کے ناطے، ایرانی برآمدات کے لیے ایک وسیع مارکیٹ فراہم کرتا ہے۔

جغرافیائی قربت، روسی مارکیٹ کی ضروریات کا ایرانی پیداواری صلاحیتوں سے ہم آہنگ ہونا اور یوکرین جنگ جیسی حالیہ جیو پولیٹیکل تبدیلیاں تہران اور ماسکو کے درمیان اقتصادی تعاون کو گہرا کرنے کے نئے مواقع پیدا کر رہی ہیں۔ اس وقت ایران سے روس کو برآمدات کے لیے تین اہم راستے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ پہلا راستہ ترکمنستان اور قزاقستان سے ہوتا ہوا روس پہنچتا ہے، جو طویل فاصلے کی وجہ سے خاصا مہنگا ہے۔

دوسرا راستہ آرمینیا اور جارجیا سے گزرتا ہے، جہاں ایرانی تاجروں کو دونوں ممالک کو ٹرانزٹ فیس ادا کرنی پڑتی ہے، جس سے منافع میں کمی آتی ہے۔ تیسرا اور سب سے اہم راستہ آذربائیجان کی آستارا سرحد ہے، جو روسی مراکز سے قریب ہونے کی وجہ سے پرکشش ہے، لیکن حالیہ دنوں میں آذربائیجان کی رکاوٹوں کی وجہ سے یہ سرحد بند رہی اور ایرانی زرعی مصنوعات لادے سینکڑوں ٹرک کئی روز تک پھنسے رہے۔

ایران کی جانب سے یوریشیا اقتصادی یونین (EAEU) کے ساتھ آزاد تجارت کے معاہدے میں شمولیت، جس کے تحت ٹیرف 20 فیصد سے کم ہو کر 4.5 فیصد رہ گیا ہے، تجارتی سرگرمیوں کے لیے ایک بڑا محرک ہے۔ اس تناظر میں ماہرین بحیرہ خزر میں بحری جہازوں کو فعال کرنے پر زور دے رہے ہیں۔ یہ جہاز مال بردار ٹرکوں کو براہِ راست روسی بندرگاہوں تک پہنچانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جس سے تیسرے ممالک کو ٹرانزٹ فیس دینے کی ضرورت ختم ہو جاتی ہے اور برآمدی لاگت میں نمایاں کمی آتی ہے۔

بحیرہ خزر کے راستے کا استعمال نہ صرف تیسرے ممالک کی مداخلت کو روکتا ہے بلکہ زمینی سرحدوں پر دباؤ کو بھی کم کرتا ہے۔ انزلی اور امیر آباد جیسی شمالی بندرگاہوں کو فعال کر کے کسٹم کی قطاروں کا خاتمہ ممکن ہے، جس سے ایرانی تاجروں کے لیے روسی مارکیٹ تک رسائی آسان ہو جائے گی۔ مجموعی طور پر، برآمدات میں مسلسل اضافے اور بین الاقوامی معاہدوں کے پیشِ نظر، بحیرہ خزر کے سمندری راستے کو فعال بنانا ایران اور روس کے درمیان تجارت کو سہل، تیز اور مستحکم بنانے کے لیے ناگزیر ہو چکا ہے۔
 

News ID 1937449

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha