مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے املاک و اسناد کی رجسٹریشن کی سرکاری ادارے نے اتوار کو اعلان کیا کہ ان جزائر کے ملکیتی کاغذات اسلامی جمہوریہ ایران کی حکومت کے نام پر رجسٹر کر دیے گئے ہیں۔
ادارے نے زور دیا کہ یہ جزائر ایرانی سرزمین کا لازمی حصہ ہیں۔
عدلیہ کے مطابق یہ اقدام قومی حکمتِ عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد زمینی وسائل کا تحفظ اور غیر مجاز استعمال یا تجاوزات کو روکنا ہے۔
حکام نے بتایا کہ شمیم قومی کڈسٹر نظام میں درج درست جیومیٹرک نقشے اور کوآرڈینیٹس استعمال کیے گئے تاکہ غلط استعمال، غیر قانونی قبضے، غیر مجاز زمین کے استعمال میں تبدیلی یا قومی زمینوں پر تجاوزات کے خطرے کو کم سے کم کیا جا سکے۔
تنب بزرگ جزیرے کے لیے ملکیتی دستاویز، جس کا رقبہ 10,832,250 مربع میٹر ہے، اب باضابطہ طور پر رجسٹر کر دی گئی ہے۔ تنب کوچک جزیرے کے لیے ملکیتی دستاویز مارچ 2023 میں جاری کی گئی تھی، جس کا رقبہ 1,394,179 مربع میٹر ہے، جبکہ ابو موسیٰ جزیرے کے لیے ملکیتی دستاویز فروری 2021 میں جاری کی گئی تھی، جس کا رقبہ 12,722,683 مربع میٹر ہے۔
یہ اقدام اعلیٰ سطحی احکامات کے مطابق ہے، جن میں 2014 کے جامع کڈسٹر قانون کی شق 3 بھی شامل ہے، جو رجسٹریشن ادارے کو جنگلات سے لے کر سمندر اور جزائر تک ملک بھر کی تمام زمینوں کے لیے کڈسٹر دستاویزات جاری کرنے کا پابند بناتی ہے۔
یہ اقدام ساتویں ترقیاتی منصوبے کی عمومی پالیسیوں کے باب ہفتم کی شق 26 کے مطابق بھی ہے، جو رہبرِ انقلاب اسلامی کی جانب سے جاری کی گئی اور ملک بھر میں کڈسٹر کے مکمل نفاذ پر زور دیتی ہے۔
عدلیہ نے اس اقدام کو عملی قدم قرار دیا ہے، جس کا مقصد اس اسٹریٹجک ہدایت پر عمل درآمد اور ایرانی سرزمین کا تحفظ ہے۔
یہ اقدام بین الاقوامی تنازعات کو حل کرنے اور غیر ملکی فریقوں کے جھوٹے دعووں کا مقابلہ کرنے کے لیے بھی کیا گیا ہے، خاص طور پر تین جزائر کی خودمختاری کے حوالے سے۔
یہ تین جزائر نہ صرف جغرافیائی اور تاریخی طور پر ایران کا حصہ ہیں بلکہ اب باضابطہ اور درست کڈسٹر دستاویزات کے ساتھ ملک کے رجسٹریشن نظام میں اعلیٰ ترین قانونی حیثیت کے ساتھ درج ہو گئے ہیں۔
ایرانی حکومت نے 30 نومبر کو ایران کے تین جزائر کا قومی دن قرار دیا ہے۔
خلیج فارس کے جزائر ابو موسیٰ، تنب بزرگ اور تنب کوچک تاریخی طور پر ایران کا حصہ رہے ہیں، جس کے ثبوت بے شمار تاریخی، قانونی اور جغرافیائی دستاویزات میں ایران اور دنیا کے دیگر حصوں میں موجود ہیں۔ تاہم متحدہ عرب امارات بارہا ان جزائر پر اپنی ملکیت کا دعویٰ کرتا رہا ہے۔
یہ جزائر 1921 میں برطانوی کنٹرول میں آ گئے تھے، لیکن 30 نومبر 1971 کو، جب برطانوی افواج خطے سے نکل گئیں اور متحدہ عرب امارات باضابطہ فیڈریشن بننے سے دو دن پہلے، ایران کی خودمختاری ان جزائر پر بحال ہو گئی۔
آپ کا تبصرہ