مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسلامی جمہوریہ ایران کی بحریہ نے اب تک 103 سے زیادہ بحری ٹاسک فورسز کو بین الاقوامی اور دوردراز سمندری علاقوں میں تعینات کیا ہے، جبکہ دو ٹاسک فورسز اس وقت کھلے سمندروں میں فعال مشن پر موجود ہیں۔ یہ ایران کی جانب سے عالمی جہازرانی راستوں کی سلامتی کو یقینی بنانے اور سمندری طاقت کے وسیع تر مظاہرے کا حصہ ہے۔
ایرانی بحریہ کے کمانڈر ریئر ایڈمرل شہرام ایرانی نے نیوی ڈے کے موقع پر منعقدہ پریس کانفرنس میں کہا کہ ایرانی بحریہ نے نہ صرف ملکی سمندری حدود بلکہ بین الاقوامی پانیوں میں بھی مؤثر حاضری یقینی بنائی ہے۔
انہوں نے کہا کہ رہبر معظم انقلاب کے نو نکاتی نظریے کے مطابق ایران کی بحریہ کا بنیادی ہدف بین الاقوامی سمندری علاقوں میں مستقل اور طاقتور موجودگی برقرار رکھنا ہے۔ عالمی سطح پر موجودگی نہ صرف ایران کے بحری و اقتصادی مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری ہے بلکہ خطے اور دنیا بھر میں جہازرانی کی سلامتی کے فروغ کے لیے بھی ناگزیر ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ایرانی بحریہ دوست اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعاون کو ترجیح دیتی ہے، کیونکہ مشترکہ مشقیں اور معلومات کا تبادلہ سمندری سیکیورٹی میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔
بحری کمانڈر نے یہ بھی اعلان کیا کہ جلد نئے جنگی بحری جہاز، خصوصی سازوسامان اور جدید سمندری آلات متعارف کرائے جائیں گے جبکہ یونیورسٹیوں اور تحقیقی اداروں کے ساتھ مشترکہ منصوبوں کے ذریعے بحریہ کی دفاعی، تکنیکی اور آپریشنل صلاحیت میں مزید اضافہ کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دو ٹاسک فورسز اس وقت بحر ہند اور کھلے سمندروں میں سرگرم ہیں، جبکہ مزید دو دستے ہنگامی تعیناتی کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ یہ تیاری اس فوجی صلاحیت کا ثبوت ہے جس کے ذریعے ایران اپنی سمندری حدود اور تجارتی روٹس کا بغیر تعطل دفاع کرسکتا ہے۔
بین الاقوامی پابندیوں کے سوال پر بحری کمانڈر نے کہا کہ ایران کے بحری جہاز قومی پرچم کے ساتھ آزادانہ سمندری سرگرمیاں انجام دے رہے ہیں اور مختلف ممالک کے ساتھ تعاون بھی جاری ہے، اس لیے پابندیوں کا عملی اثر محدود ہوچکا ہے۔
آپ کا تبصرہ