مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، تہران میں شہید حسین ہمدانی کی یاد میں منعقدہ تقریب «حبیبِ حرم» سے خطاب کرتے ہوئے علی لاریجانی نے کہا کہ مغربی طاقتیں یہ گمان رکھتی ہیں کہ وہ ایران پر اقتصادی دباؤ ڈال کر اس کی مزاحمتی قوت کو کمزور کر سکتی ہیں، لیکن اسلامی جمہوریہ ایران نے اپنی جانفشانی اور استقامت کے ذریعے دشمنوں کے منصوبوں کو ناکام بنا دیا۔
انہوں نے کہا کہ دشمن ایران کی بڑی کامیابیوں کو معمولی ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے، مگر حالیہ واقعات نے ثابت کیا ہے کہ ملتِ ایران نے بےمثال اتحاد و ہمبستگی کے ساتھ دشمن کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہونا سیکھ لیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ قومی اتحاد کمزور نہیں پڑنا چاہیے اور اگر ہم چاہتے ہیں کہ یہ اتحاد برقرار رہے تو رہبر معظم انقلاب آیت اللہ العظمی خامنہ ای کی ہدایات پر حقیقی عمل ضروری ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگرچہ حکومت کو اقتصادی مشکلات کے ازالے کے لیے عملی اقدامات کرنا چاہئے، لیکن اس اتحاد کا روحانی اور سیاسی پہلو زیادہ اہم ہے۔
قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری نے کہا کہ اسنپ بیک کے مسئلے پر ایران نے مذاکرات میں بھرپور کوشش کی، تاہم مغربی ممالک نے ایران کے دفاعی نظام کو محدود کرنے کی شرط عائد کی۔
انہوں نے بتایا کہ مغرب چاہتا تھا کہ ایران اپنے میزائلوں کی رینج 500 کلومیٹر سے کم کرے، جو کہ دراصل ایران کے دفاعی ڈھانچے کو کمزور کرنے کے مترادف ہے، حالانکہ یہ مسئلہ براہِ راست قومی سلامتی سے وابستہ ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ اگر ہم چاہتے ہیں کہ قومی مزاحمت قائم رہے، تو ہمیں مغربی دباؤ کے سامنے متحد رہنا ہوگا، کیونکہ قومی سلامتی سب کی مشترکہ امانت ہے اور اس کا دفاع ہم سب کی ذمہ داری ہے۔
آپ کا تبصرہ