21 اکتوبر، 2025، 5:28 PM

یمنی حملوں سے ایلات بندرگاہ مفلوج اور سرگرمیاں معطل ہوگئیں، صہیونی میڈیا

یمنی حملوں سے ایلات بندرگاہ مفلوج اور سرگرمیاں معطل ہوگئیں، صہیونی میڈیا

اسرائیلی میڈیا نے اعتراف کیا ہے کہ یمنی فوج کے حملوں کے نتیجے میں صہیونی بندرگاہ ایلات کی تجارتی سرگرمیاں معطل ہوگئی ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے اعتراف کیا ہے کہ انصار اللہ یمن کی بحری کارروائیوں اور مسلسل محاصرے کے باعث بندرگاہ ایلات مکمل طور پر مفلوج ہوچکی ہے، جس سے اسرائیل کو شدید اقتصادی اور تجارتی بحران کا سامنا ہے۔

صہیونی ویب سائٹ "کالکالیست" کے مطابق، انصار اللہ کی جانب سے بحیرہ احمر میں کشتیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیوں نے بندر ایلات کی سرگرمیوں کو تقریبا مکمل طور پر روک دیا ہے۔ بندرگاہ کی انتظامیہ نے تصدیق کی ہے کہ بحری محاصرے کے باعث بندر ایلات موت اور زندگی کی حالت میں ہے اور اس کی آمدنی میں 80 فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے۔

صہیونی حکام نے موجودہ بحران سے نکلنے کے لیے امریکہ اور مصر سے فوری مداخلت کی درخواست کی ہے۔ ایلات بندرگاہ کی انتظامیہ نے مصر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ نہر سوئز کے مالک کی حیثیت سے صنعا پر دباؤ ڈالے تاکہ محاصرہ ختم کیا جاسکے۔

رپورٹس کے مطابق، نومبر 2023 سے بندر ایلات کی جانب بحری جہازوں کی آمد و رفت تقریبا مکمل طور پر بند ہے، جس کے نتیجے میں تجارتی سرگرمیاں ٹھپ ہوگئی ہیں اور بندرگاہ کی مالی حالت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے۔

اسرائیلی ذرائع نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ بندر ایلات کی بندش نے جنوبی اسرائیل کی اقتصادی سرگرمیوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ٹرانسپورٹ، تجارت اور مقامی صنعتیں متاثر ہو رہی ہیں جب کہ سینکڑوں افراد بے روزگار ہوچکے ہیں۔

News ID 1936055

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha