مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے نائب وزیر خارجہ برائے اقتصادی سفارت کاری حمید قنبری نے کہا ہے کہ تین یورپی ممالک کی جانب سے اقوام متحدہ کی قرارداد 2231 کے خاتمے کے بعد اسنیپ بیک پابندیوں کے غیر قانونی نفاذ کے جواب میں ایران نے متعدد اقدامات کیے ہیں۔
تہران میں سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران ان پابندیوں کو تسلیم نہیں کرتا۔ حالیہ برسوں کے تجربات نے یہ ثابت کیا ہے کہ پابندیوں کے اثرات حقیقی ہیں۔ اسی لیے ملک کی سرکاری پالیسی اب پابندیوں سے فعال انداز میں نمٹنے اور ان کے اثرات ختم کرنے کے لیے مذاکرات کی طرف منتقل ہوچکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ تجارتی سرگرمیوں اور عوامی زندگی پر پابندیوں کے اثرات کم کرنے کے لیے عملی حل تلاش کیے گئے ہیں اور ان پر عملدرآمد بھی جاری ہے۔
قنبری نے مزید کہا کہ اگر ملکی معیشت مضبوط ہو تو ایران مذاکرات کی میز پر بہتر پوزیشن میں ہوگا اور یہی موجودہ پالیسی کا بنیادی نکتہ ہے۔
آپ کا تبصرہ