28 ستمبر، 2025، 8:27 AM

ایران کے ایٹمی پروگرام کے مسئلے کا واحد حل سفارتکاری ہے، سعودی عرب

ایران کے ایٹمی پروگرام کے مسئلے کا واحد حل سفارتکاری ہے، سعودی عرب

سعودی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ ایران کے ایٹمی پروگرام کے حل کا واحد راستہ سفارتکاری ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، قطر کے الجزیرہ چینل نے رپورٹ دی کہ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ایٹمی پروگرام کے بحران کو حل کرنے کا واحد راستہ سفارتکاری ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کیا جانا چاہیے اور تمام ممالک سے اپیل کی کہ وہ فلسطین کو تسلیم کریں اور دو ریاستی حل کی حمایت کریں۔

سعودی وزیر خارجہ نے اپنی تقریر میں خطے میں جاری صیہونی جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے حالیہ حملے کو جو اس رژیم نے قطر پر کیا، ایک "واضح اور ناقابلِ جواز اقدام" قرار دیا۔

فیصل بن فرحان نے کہا کہ اقوام متحدہ کو زیادہ مؤثر کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے اور اسے دنیا بھر میں بحرانوں اور تنازعات کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنے چاہییں۔

انہوں نے غزہ کی جنگ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب کو فوری طور پر حملے روکنے اور انسانی امداد غزہ کے عوام تک پہنچانے کے اقدامات کرنا ہوں گے۔

سعودی وزیر خارجہ نے خبردار کیا کہ اگر عالمی برادری غزہ کی جنگ کو روکنے میں کوتاہی کرے گی تو یہ معاملہ خطے اور دنیا میں سکیورٹی کی عدم استحکام کا باعث بنے گا۔

اپنی تقریر کے ایک اور حصے میں انہوں نے لبنان کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہم لبنان کی عوام کے ساتھ کھڑے ہیں اور اس ملک کی حکومت کی طائف معاہدے پر عمل درآمد اور اسلحے کو صرف حکومت کے ہاتھ میں رکھنے کی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں۔

سعودی وزیر خارجہ نے صیہونی رژیم کے تمام لبنانی مقبوضہ علاقوں سے مکمل انخلاء پر زور دیا اور بیروت حکومت کی جانب سے ریاستی اداروں کے تحت مکمل حاکمیت قائم کرنے کی کاوشوں کو سراہا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم ان ممالک کی تعداد میں اضافے کا خیرمقدم کرتے ہیں جو فلسطین کو بطور آزاد ریاست تسلیم کر رہے ہیں اور ہم جنرل اسمبلی میں نیویارک ڈیکلریشن کی منظوری کی حمایت کرتے ہیں جو فلسطینی مسئلے کے حل کے لیے دو ریاستی حل پر مبنی ہے۔

News ID 1935622

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha