مہر خبررساں ایجنسی– بین الاقوامی ڈیسک: صرف ایک سال پہلے اگر ابومحمد جولانی، دہشت گرد گروہ "ہیئت تحریر الشام" کا سرغنہ، نیویارک جانے کی کوشش کرتا تو گرفتاری کے خطرے سے دوچار ہوتا، کیونکہ امریکہ نے اس کی القاعدہ سے وابستگی اور جبہۃ النصرہ میں سرگرمیوں کے باعث اس کے سر کی قیمت 10 ملین ڈالر معین کر رکھا تھا۔
لیکن آج جولانی نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شریک ہے۔ سوشل میڈیا پر صارفین نے جولانی کی امریکہ آمد پر شدید حیرت کا اظہار کیا اور لکھا کہ ’’جولانی کو امریکی جیل سے اقوام متحدہ کے اسٹیج تک لانا ایک کھلا تضاد ہے۔
یاد رہے کہ جولانی کا نام 2013 میں امریکہ کے مطلوب افراد کی فہرست میں شامل کیا گیا اور 2017 میں اس کے بارے میں معلومات دینے پر 10 ملین ڈالر انعام رکھا گیا۔ مگر آج 21 ستمبر 2025 کو وہ امریکہ میں باضابطہ موجود ہے۔ ایک صارف نے طنز کیا: جس ملک نے جولانی کے سر کی قیمت لگائی تھی، آج وہی اسے سرخ قالین پر خوش آمدید کہہ رہا ہے۔
جولانی کا پس منظر
عراق جنگ (2003) کے بعد جولانی موصل گیا، القاعدہ کی صفوں میں شامل ہوا اور ابو مصعب الزرقاوی کی کمان میں لڑا۔ بعد میں امریکی فوج نے اسے گرفتار کرکے ابوغریب سمیت مختلف جیلوں میں رکھا، اس کے بعد عراق کے تاجی جیل منتقل کیا گیا، جہاں سے 2008 میں رہا ہوا۔
ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم میں کہا تھا کہ داعش کے قیام میں امریکہ کا کردار رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ واشنگٹن نے ظاہری طور پر مخالفت دکھائی، مگر پس پردہ ہمیشہ دہشت گرد گروہوں کو شام اور خطے میں حکومتوں کے خلاف استعمال کیا۔
جولانی نے داعش کے بانی ابوبکر البغدادی کے حکم پر شام میں "جبہۃ النصرہ" تشکیل دی اور بشار الاسد کے خلاف لڑائی کا اعلان کیا۔ 2012 میں اس گروہ کے قیام کا اعلان کرتے ہی ہزاروں جنگجو بھرتی کیے گئے اور شام کے کئی علاقوں میں پھیل گئے۔
2013 میں البغدادی نے داعش اور النصرہ کو یکجا کرنے کا اعلان کیا، لیکن جولانی نے انکار کرکے القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری سے بیعت کی۔ اسی وقت امریکہ نے النصرہ کو دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا اور جولانی کے اثاثے منجمد کر دیے۔
بعد ازاں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی جولانی کو بلیک لسٹ کیا اور اس کی نقل و حرکت اور اسلحہ رکھنے پر پابندی عائد کر دی۔
2017 میں امریکہ نے جولانی کی تلاش میں مدد دینے والوں کے لیے 10 ملین ڈالر انعام رکھا۔ لیکن گزشتہ سال شام میں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد امریکی وزارت خارجہ نے اچانک یہ انعام منسوخ کر دیا اور اعلان کیا کہ جولانی اب اس فہرست میں شامل نہیں ہے۔
بڑا سوال
امریکہ نے کبھی وضاحت نہیں کی کہ جس شخص کو وہ کل تک بین الاقوامی دہشت گرد قرار دے رہا تھا اور جس کے سر کی قیمت لگائی تھی، آج وہی نیویارک میں اقوام متحدہ کے اجلاس میں عالمی برادری سے خطاب کیسے کر رہا ہے؟
آپ کا تبصرہ