مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسلامی جمہوری ایران کے وزیر انٹیلیجنس حجت الاسلام سید اسماعیل خطیب نے کابینہ اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے 12 روزہ دفاع مقدس میں وزارت انٹیلیجنس کی کامیابیوں پر روشنی ڈالی اور کہا کہ خدا کے فضل اور امام زمانؑ کے گمنام سپاہیوں کی کوششوں سے، صہیونی اور امریکی مسلط کردہ اس جنگ میں وزارت انٹیلیجنس نے داخلی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ وزارت انٹیلیجنس نے پولیس، سپاہ پاسداران، مسلح افواج اور وزارت داخلہ کے تعاون سے ملک بھر میں امن و سکون قائم رکھا۔
وزیر انٹیلیجنس نے بتایا کہ دشمنوں نے ملک کے اندر فسادات، سماجی بحران، دہشت گردانہ کارروائیوں کی منصوبہ بندی کی تھی، مگر ان تمام سازشوں کو بروقت ناکام بنا دیا گیا اور منصوبہ سازوں کو گرفتار کرلیا گیا۔ ملک کے تمام صوبوں میں امن و امان اور سکون دیکھنے کو ملا، جو وزارت انٹیلیجنس کی ایک بڑی کامیابی ہے۔
حجت الاسلام خطیب نے مزید کہا کہ یہ کامیابی، سکیورٹی و انٹیلیجنس اداروں کی باہمی ہم آہنگی اور مسلسل کوششوں کا نتیجہ ہے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ وزارت انٹیلیجنس نے صہیونی حکومت سے متعلق اہم دستاویزات اور معلومات حاصل کیں اور ان کی مکمل تفصیلات ایران کی مسلح افواج کو فراہم کیں، جس پر ان اداروں نے وزارت انٹیلیجنس کی کارکردگی کو سراہا۔
ایران میں جاسوسی نیٹ ورک کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہا کہملک میں سرگرم 50 سے زائد غیر ملکی انٹیلیجنس سروسز کی مسلسل نگرانی کی جارہی ہے۔ وزارت انٹیلیجنس، سپاہ پاسداران کے انٹیلیجنس ادارے اور دیگر ملکی ایجنسیاں روزانہ کی بنیاد پر ان سرگرمیوں پر نظر رکھتی ہیں۔ خوش قسمتی سے عدلیہ کے ساتھ مکمل تعاون حاصل ہے، جس نے ہماری کامیابیوں کو دوگنا کردیا ہے۔
آپ کا تبصرہ