مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے نیوزی لینڈ کی سفیر بیتھنی میڈن کی اسناد وصول کرنے کی تقریب میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے امریکہ کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم مذاکرات کا خیرمقدم کرتے ہیں لیکن بات چیت کا اصول یہ ہے کہ کوئی بھی اپنے مطالبات دوسرے فریق پر مسلط نہ کرے۔
پزشکیان نے مزید کہا کہ یہ قطعی طور پر ناقابل قبول ہے کہ خطے کی ایک رژیم طاقتور ممالک کی حمایت سے جرائم کا ارتکاب کرے، لیکن دنیا اسے لگام دینے کے بجائے دیگر ممالک پر خطے کی سلامتی سے کھیلنے کا الزام لگا کر اپنے مطالبات مسلط کرنے کی کوشش کرے۔
انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے بارہا کہا ہے کہ وہ کسی بھی طرح سے جوہری ہتھیار بنانے کا خواہاں نہیں ہے اور اس دعوے کی سچائی کو ثابت کرنے کے لیے ہر قسم کے تعاون کے لیے ہمیشہ تیار ہے۔
اس موقع پر نیوز لینڈ کی نئی سفیر بیتھنی میڈن نے غزہ کی مخدوش صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نیوزی لینڈ نے بارہا غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے اور اس علاقے میں طبی اور غذائی امداد کی ترسیل پر اسرائیل پابندی کے بارے میں اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔
آپ کا تبصرہ