امریکہ کی سرپرستی میں سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات متوقع

امریکہ کی سرپرستی اور نگرانی میں سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان جلد ہی سفارتی معاہد طے پانے کی توقع ہے جس کے لیے امریکہ اور امریکی اتحادی عرب ممالک کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی نے ایسوسی ایٹڈ پریس کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ امریکہ کی سرپرستی اور نگرانی میں سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان جلد ہی سفارتی معاہد طے پانے کی توقع ہے جس کے لیے امریکہ اور امریکی اتحادی عرب ممالک کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ 

اطلاعات کے مطابق امارات ، بحرین اور بعض دیگر عرب ممالک سے تعلقات کی بحالی کے بعد اب امریکہ نے اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان سفارتی تعلقات طے کرانے کے لیے اپنی کوششیں تیز کردی ہیں۔ متحدہ عرب امارات اور بحرین  بھی سعودی عرب کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے لیے کوشاں ہیں۔ جبکہ خود متحدہ عرب امارات اور بحرین نے بھی سعودی عرب کی ایماء اور اشاروں پر اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کئے تھے۔

اسرائیل کے وزیر خارجہ یائر لیپید نے آرمی ریڈیو پر گفتگو میں کہا کہ سعودی عرب سے تعلقات کی بحالی ہمارے مفاد میں ہے۔ معاہدۂ ابراہیمی کا طویل المدتی ہدف یہ بھی تھا کہ خلیجی ممالک سے تعلقات کی بحالی کے بعد سعودی عرب کو بھی اس معاہدے میں شامل کیا جائے۔

سعودی عرب سے معاہدے کے حوالے سے اسرائیلی وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ اس کے لیے ہم امریکہ اور اس کے اتحادی عرب ممالک کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں اور یہ مشترکہ کاوشیں جلد ہی کسی مثبت نتیجے تک پہنچ جائیں گی۔ باخبر ذرائع‏ کے مطابق  سعودی عرب کے خفیہ تعلقات اسرائیل کے ساتھ کئی برسوں سے جاری ہیں اور اب ان غیر رسمی تعلقات کو رسمی شکل دینے کے لئے مسلمانوں کے اذہان کو آمادہ کیا جارہا ہے اور یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ سعودی عرب تو اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم نہیں کرنا چاہتا لیکن امریکہ اور بعض عرب ممالک کے دباؤ میں وہ ایسا کرنے پر مجبور ہوگيا ہے۔

News Code 1911047

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha