سعودی عرب کے وزیر خآرجہ کی ایران کے خلاف ہرزہ سرائي

سعودی عرب کے وزیر خارجہ نے ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران اپنا پرایٹمی پروگرام بند کردے تو سعودی عرب ایران کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھانے کے لئے تیار ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے الخلیج الجدید کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ سعودی عرب کے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے امریکہ میں ایسپین سلامتی کونسل کے اجلاس سے آن لائن خطاب میں ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران اپنا پرایٹمی پروگرام بند کردے تو سعودی عرب ایران کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھانے کے لئے تیار ہے۔

سعودی وزیرخارجہ نے اسرائيل کے بجائے ایران پر مشرق وسطیٰ میں قیام امن کو نقصان پہنچانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی حکومت یمن میں حوثی باغیوں کو عسکری امداد کی فراہمی اور خلیج فارس میں جہاز رانی کو خطرے میں ڈال کر اپنا اثر و رسوخ بڑھانا چاہتی ہے۔ سعودی عرب کے وزیر خارجہ نے خلیجف ارس میں غیر علاقائی طاقتوں کی موجودگي اور ان کی طرف سے خلیج فارس کی سلامتی کا لاحق خطرات کے بارے میں کچھ نہیں کہا۔ سعودی عرب کے وزیر خارجہ نے کہا کہ فلسطینی ریاست کا قیام ہی مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کا واحد راستہ ہے۔اسرائیل سےتعلقات قائم نہیں کریں گے۔فیصل بن فرحان نے قطر اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کو بہتر قراردیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک خلیج فارس تعاون کونسل کو مضبوط بنانے کی تلاش و کوشش کررہے ہیں۔ سعودی وزیر خارجہ نے اسرائيل کے ایٹمی ہتھیاروں اور فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم کی طرف کوئی اشارہ نہیں کیا صرف اتنا ہی کہا کہ سعودی عرب فلسطینی ریاست کے قیام کا خواہاں ہے۔ عرب ذرائع کے مطابق سعودی عرب نے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ملکر خطے میں دہشت گرد گروہوں کو تشکیل دیا اور آچ بھی اسلامی ممالک میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لئے تینوں ممالک متحد ہیں۔ سعودی عرب نے کئي برسوں تک قطر کا بری، بحری اور فضائی محاصرہ جاری رکھا لیکن قطر کو ترکی اور ایران نے مدد فراہم کرکے یمن جیسے بحران کا شکار ہونے سے بچا لیا، ورنہ سعودی عرب  حملہ کرکے قطر کو بھی یمن بنانا چاہتا تھا۔

News Code 1907653

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 7 + 5 =