پابندیوں کا مکمل خاتمہ مشترکہ ایٹمی معاہدے کو بحال کرنے کا واحد راستہ ہے

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خآرجہ کے ترجمان نے ایران اور چین کے درمیان معاہدے کو باہمی احترام اور عدم الزام آور قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کی طرف سے اقتصادی پابندیوں کے مکمل خاتمہ کی صورت میں ہی مشترکہ ایٹمی معاہدہ بحال ہوسکتا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خآرجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ  نے ایران اور چین کے درمیان معاہدے کو باہمی احترام اور عدم الزام آور قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کی طرف سے اقتصادی پابندیوں کے مکمل خاتمہ کی صورت میں ہی مشترکہ ایٹمی معاہدہ بحال ہوسکتا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ایران اور چین کے درمیان معاہدے کے بارے میں بعض شکوک و شبہات کو رد رکرتے ہوئے کہا کہ ایران میں غیر ملکی افواج کی تعینات پر مبنی خبریں بالکل بے بنیاد اور غلط ہیں۔ ایران اور چین کے درمیان معاہدہ باہمی احترام پر مبنی ہے اور اس معاہدے میں کسی قسم کا کوئی الزام اور تعہد نہیں ہے یہ معاہدہ باہمی تعاون کے اصولوں پر مشتمل ہے۔ غیر ملکی فوج کی ایران میں تعیناتی ایران کے بنیادی آغين کے خلاف ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ روس اور ہدوستان کے ساتھ بھی ہمارے معاہدے ہیں اور اس سال ہم روس کے ساتھ مشترکہ قرارداد کی دسویں سالگرہ منائیں گے۔

سعید خطیب زادہ نے ویانا میں امریکہ اور گروپ 1+4 کے درمیان مذاکرات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ان مذاکرات سے ایران کا کوئی ربط نہیں ، ایران کا امریکہ کے ساتھ براہ راست مذاکرات کا کوئی پروگرام نہیں ۔ اگر امریکہ مشترکہ ایٹمی معاہدے میں واپس آنا چاہتا ہے تو اسے ایران کے خلاف عائد تمام پابندیوں کو عملی طور پر ختم کرنا ہوگا۔ یورپی ممالک نے بھی امریکہ کی طرح مشترکہ ایٹمیم عاہدے پر معل نہیں کیا انھیں بھی اپنی کوتاہیوں کی تلافی کرنی چاہیے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے مشترکہ ایٹمی معاہدے کے بارے میں اسرائیل اور سعودی عرب کے تخریبی کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مشترکہ ایٹمی معاہدے کے بارے میں سعودی عرب اور اسرائیل کا مشترکہ تخریبی کردار نمایاں ہے ، سعودی عرب کو علاقائی سطح پر مذاکرات کی طرف لوٹنا چاہیے اور یمن کے نہتے عربوں کے خلاف ظالمانہ جنگ کو فوری طور پر ختم کرنا چاہیے۔

News Code 1905962

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 5 + 2 =