پاکستان کی وفاقی کابینہ نے بجلی کی قیمت میں 5.65 روپے کے اضافہ کی منظوری دیدی

پاکستان وفاقی کابینہ نے بجلی کی قیمت میں مجموعی طور پر 5.65 روپے فی یونٹ اضافے کے لیے صدارتی آرڈیننس لانے کی منظوری دے دی۔

مہر خبررساں ایجنسی نے پاکستانی ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ پاکستان وفاقی کابینہ نے بجلی کی قیمت میں مجموعی طور پر 5.65 روپے فی یونٹ اضافے کے لیے صدارتی آرڈیننس لانے کی منظوری دے دی۔ بجلی کی قیمت میں یہ فوری اضافہ آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت کیا جارہا ہے جس کا مقصد بجلی صارفین سے اکتوبر تک 884 ارب روپے اضافی رونیو اکٹھا کرنا ہے۔5.65 روپے فی یونٹ اضافہ 6 مرحلوں میں ہوگا جس کی وفاقی کابینہ نے سرکولیشن سمری کے ذریعے منظوری دے دی ہے۔ وفاقی کابینہ نے صدارتی آرڈیننس کے ذریعے نیپرا ایکٹ میں ترمیم کی بھی منظوری دی جس کے تحت حکومت کو بجلی پر ریونیو بڑھانے کے لیے مزید 10 فیصد سرچارج لگانے کا اختیار بھی حاصل ہوجائے گا اور وہ بجلی کی قیمت میں 1.40 روپے فی یونٹ اضافہ کرسکے گی۔

اس کا مقصد سرکولر ڈیٹ پروگرام پر عمل درآمد کرنا ہے جس کی منظوری وفاقی کابینہ دے چکی ہے۔ کابینہ کی طرف سے ان آرڈیننس کی منظوری کے بعد آئی ایم ایف کی ریزیڈنٹ نمائندہ ٹیریسیا دابا نے پاکستان زندہ باد کا ٹوئٹ کیا۔

ذرائع کے مطابق پاکستان آئی ایم ایف قرضے کی تمام شرائط پوری کرچکا ہے اور آئندہ ہفتے آئی ایم ایف کی طرف سے پاکستان کے لیے قرضے کے قسط کی منظوری کا امکان ہے۔ بجلی کی قیمت میں 5.65 روپے یونٹ اضافے کا مقصد بلز میں سے ٹیکس نکال کر 36 فیصد اضافہ ہے۔ سرکلر ڈیٹ مینجمنٹ پلان کے مطابق اپریل 2021 سے بجلی کی قیمتوں میں اضافہ 6 مرحلوں میں ہوگا جو جون 2023 تک جاری رہے گا۔

News Code 1905744

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 4 + 5 =