پرویز مشرف کے خلاف خصوصی عدالت کی تشکیل غیر آئینی اور غیر قانونی

پاکستان میں لاہور ہائی کورٹ نے پرویز مشرف کے خلاف خصوصی عدالت کی تشکیل کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دے دیا۔

مہر خبررساں ایجنسی نے جنگ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ پاکستان میں لاہور ہائی کورٹ نے پرویز مشرف کے خلاف خصوصی عدالت کی تشکیل کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دے دیا۔ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کی سربراہی میں لاہور ہائی کورٹ کے تین رکنی فل بنچ نے خصوصی عدالت کی تشکیل کے خلاف پرویز مشرف کی درخواست پر سماعت کی۔ وفاقی حکومت کی طرف سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل اشتیاق اے خان پیش ہوئے اور خصوصی عدالت کی تشکیل کی سمری اور ریکارڈ عدالت میں پیش کرتے ہوئے بتایا کہ پرویز مشرف کے خلاف کیس سننے والی خصوصی عدالت کی تشکیل کابینہ کی منظوری کے بغیر ہوئی۔  لاہور ہائی کورٹ نے جنرل (ر) پرویز مشرف کی آئینی درخواست منظور کرتے ہوئے ان کے خلاف خصوصی عدالت کی تشکیل کو غیر آئینی، غیر قانونی اور کالعدم قرار دے دیا۔عدالت نے قرار دیا کہ خصوصی عدالت کی تشکیل کے وقت آئینی اور قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے اور خصوصی عدالت میں شکایت درج کرتے وقت قانون کو مدنظر نہیں رکھا گیا۔لاہور ہائی کورٹ نے ملزم کی غیر موجودگی میں فیصلہ سنانے کو بھی غیر اسلامی اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملزم کی غیر موجودگی میں ٹرائل کرنا غیر آئینی ہے۔

News Code 1896998

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 1 + 4 =