بھارت میں متنازع شہریت قانون کیخلاف مظاہرین پر پولیس کی فائرنگ سے 30 افراد شہید

بھارت میں متنازع اور ظالمانہ شہریت قانون کیخلاف احتجاج کے دوران پولیس کی فائرنگ اور تشدد سے شہداء کی تعداد 30 تک پہنچ گئی ہے۔

 مہر خبررساں ایجنسی نے بھارتی ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ بھارت میں متنازع اور ظالمانہ شہریت قانون کیخلاف احتجاج کے دوران پولیس کی فائرنگ اور تشدد سے شہداء کی تعداد 30 تک پہنچ گئی ہے۔  اطلاعات کے مطابق بھارت کی مختلف ریاستوں میں پولیس مسلمانوں کے گھروں میں گھس گئی، مسلمان  بچوں، بزرگوں اور خواتین پر تشدد کیا، املاک کو نقصان پہنچایا، گاڑیاں توڑ دیں،کانپور میں فائرنگ سے 2نوجوان شہید ہو گئے، انتظامیہ نے کرفیو لگا کر گھروں تک محدود کر دیا۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں تشددکے الزام میں ہزار سے زیادہ نامعلوم طلباء کے خلاف مقدمے درج کرلئے گئے۔کانگرس رہنما پریانکا گاندھی نے اترپردیش پولیس پرگلا پکڑنے اورہاتھا پائی کاالزام عائد کیا ہے، پولیس نے ان کا دعوی غلط قراردے دیا۔ہنگاموں سے ملک میں سیاحوں میں 60 فیصد کمی ہوگئی۔

 برطانیہ، روس، اسرائیل، سنگاپور، کینیڈا اور تائیوان نے اپنے شہریوں کوبھارت کے سفر سے خبردارکردیا ہے۔ 2لاکھ مقامی اور غیرملکی سیاحوں نے تاج محل کا دورہ ملتوی یا منسوخ کردیا۔ مودی سرکار نے مظاہروں کے باعث موبائل فون کمپنیوں کو انٹرنیٹ سروسز بند کرنے کی ہدایت کی، جس سے روزانہ 82لاکھ ڈالرزنقصان ہو رہا ہے،اب تک 13ارب ڈالرکا نقصان پہنچ چکا ہے۔ مودی کی حکومت کو بھارتی تاریخ کی بد ترین ، جھوٹی اور نسل پرست حکومت قراردیا جارہا ہے۔ مودی نے بھارت کے اقتصاد کو بھی زبردست نقصان پہنچایا ہے۔

News Code 1896615

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 1 + 1 =