بھارتی مسلمانوں کا بھارت کی حکمراں جماعت کے مظالم کا مقابلہ کرنے کا عزم

بھارتی مسلمانوں نے ملک کے کونے کونے میں ہونے والے اجتماعات اور مظاہروں میں ہندوستانی آئين کے اندر رہ کر حکمراں جماعت بی جے پی کے تمام مظالم اور سازشوں کا مقابلہ کرنے کے عزام کا اظہار کیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں شہریت سے متعلق متنازع ترمیمی قانون بننے کے بعد جہاں ایک طرف ملک کے مختلف علاقوں میں احتجاج شروع ہوا ہے وہیں بھارتی پولیس کی جانب سے مظاہرین پر تشدد کرنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ بھارتی مسلمانوں نے ملک کے کونے کونے میں ہونے والے اجتماعات اور مظاہروں میں ہندوستانی آئين کے اندر رہ کر حکمراں جماعت بی جے پی کے تمام مظالم اور سازشوں کا مقابلہ کرنے کے عزام کا اظہار کیا ہے۔ بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں پولکس نے جامعہ ملیہ کے طلبہ اور طالبات کو بہیمانہ اور مجرمانہ تشدد کا نشانہ بنایا ۔ کئی طالبات نے اپنے ساتھی طلبا کو بچآنے کی بھر پور کوشش کی اور پولیس کا مقابلہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اپنے حقوق کے تحفظ کے لئے بھارتی حکومت اور بھارتی پولیس کا مقابلہ کرنا ہے اور ہم بھارتی حکومت کے تمام مظالم کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہیں۔ بھارتی میڈیا سے گفتگو میں جامعہ ملیہ کی طالبات نے کہا کہ پہلے یہ سب کچھ کشمیر میں کیا گیا، تب ہم خاموش رہے، پھر بابری مسجد کا فیصلہ آیا، جس کے باعث ہم عدلیہ پر اپنا اعتماد کھو بیٹھے۔

طالبات نے کہا کہ اب شہریت ترمیمی قانون کا معاملہ سامنے آگیا، ہمیں یقین ہے کہ اب یہ لوگ سارے بھارت کو نشانہ بنائیں گے۔ واضح رہے کہ نئی دہلی کی جامع ملیہ اسلامیہ، اتر پردیش کی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے بعد بھارت کے مختلف تعلیمی اداروں میں متنازع قانون کے خلاف احتجاج کیا جارہا ہے اور دوسری طرف عوام کے پر امن احتجاج کو دبانے کے لئے بھارتی حکومت کے مظالم کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

News Code 1896250

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 1 + 11 =