بھارت کے ایک اور سابق چیف جسٹس نے بھی بابری مسجد کے فیصلے کو ظالمانہ قراردے دیا

بھارتی سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس مرکنڈے کاٹجو نے کہا ہے کہ بابری مسجد کیس کے فیصلے سے ثابت ہو گیا کہ بھارت میں جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا معاملہ چل رہا ہے،بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے سے صاف ظاہر ہے کہ ظلم و جارحیت کی حمایت کی گئی ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے بھارتی ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ بھارتی سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس مرکنڈے کاٹجو نے کہا ہے کہ بابری مسجد کیس کے فیصلے سے ثابت ہو گیا کہ بھارت میں جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا معاملہ چل رہا ہے،بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے سے صاف ظاہر ہے کہ ظلم و جارحیت کی حمایت کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے ایودھیا کیس کا فیصلہ کرکے خطرناک رجحان کی بنیاد رکھ دی ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ایودھیا کیس کے فیصلے کا شمار تاریخ کے کم تر فیصلوں میں ہوگا۔سابق جج نے کہا کہ 500 سال پہلے مندر گرا کر مسجد تعمیر کرنے کی بات احمقانہ ہے، ایسی باتیں کچھ لوگوں کے سیاسی ایجنڈے کو تقویت دینے کے لیے کی جاتی ہیں۔

News Code 1895330

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 1 + 12 =