مشترکہ ایٹمی معاہدے کے حفظ سے ایران کے خلاف آئندہ سال ہتھیاروں کی پابندیاں ختم ہوجائیں گی

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر حسن روحانی نے رفسنجان میں ایک عظيم عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشترکہ ایٹمی معاہدے کے حفظ سے ایران کے خلاف آئندہ سال ہتھیاروں کی پابندیاں ختم ہوجائیں گی۔

مہر خبررساں ایجنسی کے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر حسن روحانی صوبہ کرمان کے دو روزہ دورے پر رفسنجان پہنچ گئے ہیں۔ جہاں انھوں نے رفسنجان کے تختی اسٹیڈیم میں عوام کے ایک عظيم الشان اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشترکہ ایٹمی معاہدے کے حفظ سے ایران کے خلاف آئندہ سال ہتھیاروں کی پابندیاں ختم ہوجائیں گی۔

صدر حسن روحانی نے مشترکہ ایٹمی معاہدے سے امریکہ کے خارج ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے بین الاقوامی معاہدے اور اقوام متحدہ کی قرارداد کی خلاف ورزی کا ارتکاب کیا۔ مشترکہ ایٹمی معاہدے میں 6 ممالک شامل ہیں جن میں سے ایک خارج ہوگیا۔

صدر روحانی نے کہا کہ قرارداد 2231 کی روشنی میں آئندہ سال ایران کے خلاف ہتھیاروں کی خرید اور فروخت کے سلسلے میں عائد پابندی ختم ہوجائےگی اور ایران پر ہتھیاروں کی خرید اور فروخت کے سلسلے میں پابندیاں دور ہو جائیں گی اور ہمیں اس سلسلے میں مشترکہ ایٹمی معاہدے کی آئندہ سال تک حفاظت کرنی چاہیے۔

صدر روحانی نے کہا کہ مشترکہ ایٹمی معاہدے سے امریکہ کے خارج ہونے کے بعد ایران میں تین نظریئے وجود میں آگئے ایک نظریہ کا کہنا تھا کہ ہمیں بھی مشترکہ ایٹمی معاہدے سے فوری طور پر خارج ہوجانا چاہیے، دوسرے نظریہ کا کہنا تھا کہ ہمیں ایٹمی معاہدے پر عمل جاری رکھنا چاہیے ، جبکہ تیسرے نظریہ نے درمیانی راستہ اختیار کیا اور مشترکہ ایٹمی معاہدے سے بتدریج اور گام بہ گام خارج ہونے کا فیصلہ کیا۔

صدر حسن روحانی نے مرحوم آیت اللہ ہاشمی رفسنجانی کی انقلاب اسلامی سے قبل اور بعد گرانقدر خدمات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آیت اللہ ہاشمی رفسنجانی ایک مدیر، مدبر ، شجاع اور اعتدال پسند انسان تھے جنھوں نے انقلاب اسلامی کی کامیابی اور دفاع مقدس کے دوران گرانقدر خدمات انجام دیں اور ایرانی عوام ان کی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کریں گے۔

News Code 1895316

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 5 + 8 =