شام کے شمال میں  کرد مسلمانوں اور ترک فوجیوں کے درمیان شدید لڑائی جاری

ترک فوجیوں کی شام کے شمال میں کرد مسلمانوں کے خلاف فوجی یلغار کا سلسلہ جاری ہے۔ ترکی کے جنگی طیاروں نے تل ابیض شہر پر شدید بمباری کی ہے جبکہ کرد مسلمانوں کی مزاحمت کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی  کی رپورٹ کے مطابق ترک فوجیوں کی شام کے شمال میں  کرد مسلمانوں کے خلاف فوجی یلغار کا سلسلہ جاری ہے۔ ترکی کے جنگی طیاروں نے تل ابیض شہر پر شدید بمباری کی ہے جبکہ کرد مسلمانوں کی مزاحمت کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

اطلاعات کے مطابق ترک صدر رجب طیب اردوغان نے بدھ کے دن شام کے کرد مسلمانوں کے خلاف فوجی آپریشن کا حکم صادر کیا جس کے بعد ترک فوجیں اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتی ہوئی شام کی سرزمین میں داخل ہوگئیں اور انھوں نے کرد مسلمانوں کے خلاف آپریشن کا آغاز کردیا ترکی کا کہنا ہے کہ اس کے فوجیوں نے 100 سے زائد کرد باغیوں کو ہلاک کردیا ہے، ترکی داعش کی حمایت اور کرد وں کو دہشت گرد قراردے رہا ہے۔ ترکی کے اس اپریشن  میں اب تک 60 ہزار کرد مسلمان بے گھر اور آوارہ وطن ہوگئے ہیں جن میں بڑی تعداد میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔ کردوں کی اس سے قبل امریکہ حمایت کررہا تھا لیکن امریکی صدر ٹرمپ نے کردوں کی پشت میں خنجر گھونپ کر ترکی کو ان کے خلاف فوجی آپریشن کرنے کی اجازت دیدی۔ جس کے بعد ترک صدر اردوغان کے حکم پر ترک فوجیوں نے کردوں کے خلاف آپریشن کا آغاز کردیا۔ روس، ایران، ہندوستان، چین، سعودی عرب ، مصر، یورپی یونین اور دیگر ممالک نے ترکی کے اقدام کو تحریک آمیز قراردیتے ہوئے اس پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

News Code 1894477

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 2 + 0 =