مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزارت خارجہ نے مقبوضہ جولان کی پہاڑیوں پر صہیونی حکومت کے دعووں اور آزاد فلسطینی ریاست کے خلاف بیانات کی شدید مذمت کی ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کولمبیا کی جانب سے مقبوضہ جولان کے علاقے پر صہیونی حکومت کی حاکمیت کو تسلیم کرنے کے حالیہ اقدام کی بھی مذمت کی اور اسے اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا۔
ایرانی وزارت خارجہ نے کہا کہ صہیونی وزیراعظم کی جانب سے جولان کی پہاڑیوں کو مستقل طور پر اس حکومت کا حصہ قرار دینے کے بیانات اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کو مسترد کرنا قابل مذمت ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ فلسطین کی سرزمین فلسطینی عوام کی ہے اور صہیونی حکومت کے دعوے اس حقیقت کو تبدیل نہیں کر سکتے۔ اسی طرح جولان کی پہاڑیاں شام کے علاقے کا ناقابل تنسیخ حصہ ہیں اور قابض و غاصب قوت کے نوآبادیاتی عزائم ان کی قانونی اور تاریخی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتے۔
ایرانی وزارت خارجہ نے کولمبیا کی جانب سے مقبوضہ جولان پر صہیونی حکومت کی خودمختاری کو تسلیم کرنے کے اقدام کو بھی مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام اقوام متحدہ کے منشور کے بنیادی اصولوں اور ریاستوں کی خودمختاری و علاقائی سالمیت کے احترام سے متعلق بین الاقوامی قوانین کی واضح خلاف ورزی ہے۔
وزارت خارجہ نے تمام ممالک، بالخصوص اسلامی ممالک کی قانونی، اخلاقی اور انسانی ذمہ داری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ فلسطینی عوام کو حق خود ارادیت حاصل کرنے اور صہیونی حکومت کے قبضے، نسل پرستی اور نوآبادیاتی نظام سے آزادی کے لیے مدد فراہم کرنا ضروری ہے۔
ایران نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ فلسطین، لبنان، شام اور خطے کے دیگر ممالک کے خلاف صہیونی حکومت کے قبضے اور مسلسل جارحیت کو روکنے کے لیے اپنی ذمہ داری پوری کرے۔
آپ کا تبصرہ