کشمیر میں اب تک پتھراؤ کے الزام 4 ہزار افراد کو حراست میں لیا گیا ہے

بھارت میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد سے اب تک 4 ہزار افراد کو پتھراؤ کے الزام میں حراست میں لیا جاچکا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے بھارتی ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ بھارت میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق  کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد سے اب تک 4 ہزار افراد کو پتھراؤ کے الزام میں حراست میں لیا جاچکا ہے۔

واضح رہے کہ بھارتی حکومت نے 5 اگست کے اقدام کے بعد ممکنہ احتجاج کے پیشِ نظر کشمیر میں نہ صرف انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس منقطع کردی تھی بلکہ بہت سے علاقوں میں کرفیو کی طرز پر پابندیاں عائد کردی تھیں۔

برطانوی خبررساں ایجنسی رائٹرز کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ بھارتی حکومت نے 6 ستمبر کو اعداد و شمار جاری کیے جن کے مطابق 3 ہزار800 افراد کو حراست میں لیا گیا تھا تاہم اس میں 2 ہزار 600 افراد رہا کیے جاچکے ہیں۔ پبلک سیفٹی ایکٹ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں نافذ ایسا قانون ہے جس کے تحت بغیر کسی الزام کے کسی بھی شخص کو 2 سال تک قید رکھا جاسکتا ہے۔

خیال رہے کہ  کشمیر کے 2 سابق وزرائے اعلیٰ سمیت 200 سیاستدان گرفتار ہیں، جس میں 100 سے زائد سیاستدانوں کا تعلق بھارت مخالف جماعتوں سے ہے۔

ان 3 ہزار سے زائد گرفتار افراد کو پتھراؤ کرنے اور دیگر شرپسندانہ کارروائیوں میں ملوث قرار دیا گیا جبکہ اتوار کے روز 85 گرفتار افراد کو بھارت کی شمالی ریاست آگرہ کی جیل میں منتقل کیا گیا۔

News Code 1893724

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 8 + 9 =