عالمی عدالت انصاف کا کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے پر تشویش کا اظہار

عالمی عدالت انصاف نے کشمیر کو بھارتی آئین میں حاصل خصوصی حیثیت کو ختم کرنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیریوں کے آئینی و قانونی حقوق سلب کرنا غیر قانونی اقدام ہے جس سے وادی میں بنیادی انسانی حقوق کے بحران میں مزید اضافہ ہوگا۔

مہر خبررساں ایجنسی نے ایکس پریس کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ عالمی عدالت انصاف نے کشمیر کو بھارتی آئین میں حاصل خصوصی حیثیت کو ختم کرنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیریوں کے آئینی و قانونی حقوق سلب کرنا غیر قانونی اقدام ہے جس سے وادی میں بنیادی انسانی حقوق کے بحران میں مزید اضافہ ہوگا۔ عالمی عدالت انصاف نے جموں و کشمیر پر مودی سرکار کے اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے بھارتی حکومت کو ہدایت کی ہے کہ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر کی سفارشات پر عمل درآمد کرے اور جموں و کشمیر کے شہریوں کو عالمی قوانین کے تحت حاصل حق خود ارادیت کی پاسداری کرتے ہوئے لوگوں کی  جان و مال کے تحفظ کے ساتھ ساتھ لوگوں کے انسانی حقوق کی فراہمی کو یقینی بنائے۔

عالمی عدالت انصاف نے اپنی ویب سائٹ پر جاری بیان میں مزید کہا ہے کہ کشمیر کی خود مختاری اور خصوصی حیثیت ختم کرنا قانون کی حکمرانی اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے جس کے ذریعے کشمیریوں کی ریاستی امور میں نمائندگی اور شراکت داری کے حقوق پر قدغن لگائی گئی ہے۔ یہ بنیادی حقوق کشمیریوں کو عالمی قوانین اور بھارتی آئین کے تحت حاصل تھے۔ غیر انسانی قانون کیخلاف سب کی نظریں بھارتی سپریم کورٹ پر لگی ہیں کہ وہ کشمیریوں کے حقوق کا تحفظ اور بھارتی آئین پر عمل درآمد یقینی بنائے۔ عالمی عدالت انصاف نے مزید کہا کہ وادی میں رابطے مسدود کر دیئے گئے ہیں، سیاسی رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا اور جلسے جلوس پر پابندی عائد کرکے لوگوں کے بنیادی حقوق سلب کر لیے ہیں۔ کشمیر 1947 سے پاکستان اور بھارت کے درمیان متنازع علاقہ ہے جو سنگین خلاف ورزیوں کے باعث وادی انسانی حقوق کا قبرستان بن گئی ہے۔

News Code 1892772

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 3 + 12 =