پنجاب میں وہابی دہشت گرد تنظیموں کے مزید اثاثوں کو ضبط کرنے کا فیصلہ

پاکستان کی وفاقی اور پنجاب حکومت نے اقوامِ متحدہ کی جانب سے دہشت گرد اور کالعدم قرار دی گئی وہابی تنظیموں کے مزید اثاثوں کی نشاندہی کر کے ضبط کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

مہر خبررساں ایجنسی نے ایکس پریس کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ پاکستان کی وفاقی اور پنجاب حکومت نے اقوامِ متحدہ کی جانب سے دہشت گرد اور کالعدم قرار دی گئی وہابی تنظیموں کے مزید اثاثوں کی نشاندہی کر کے ضبط کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ اس حوالے سے کہا گیا کہ غیر فعال یا غیر رجسڑڈ فلاحی تنظیموں(این پی او) کے خلاف بھی کارروائی عمل میں لائی جائےگی۔اطلاعات کے مطابق  رجسٹرڈ فلاحی تنظیموں کے کام اور اثاثہ جات کی بھی چھان بین کی جائے گی تا کہ قومی مفاد کو نقصان پہنچانے اور اقوامِ متحدہ کی جانب سے منع کردہ سرگرمیوں کی نشاندہی کی جاسکے۔یہ فیصلہ صوبائی محکمہ داخلہ میں منعقدہ اعلیٰ سطح اجلاس میں کیا گیا جس میں وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل انسداد دہشت گردی احمد فاروق نے وہابی کالعدم تنظیموں اور اس کے اراکین پر اقوامِ متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی قرارداد 1267 کے تحت عائد پابندی کے حوالے سے بریفنگ دی۔خیال رہے کہ حکومت پنجاب پہلے ہی 599 املاک ضبط کرچکی ہے جس میں زیادہ تراملاک وہابی دہشت گرد تنظیموں جماعت الدعوۃ اور جیشِ محمد کی ہیں، ان املاک میں اسکول، مدرسے، مراکز صحت اور ایمبولینسز شامل ہیں۔ایک عہدیدار کا مزید کہنا تھا کہ ہوسکتا ہے ان دونوں وہابی دہشت گرد  اور دیگر تنظیموں کی بعض املاک کا علم نہ ہوسکا ہو لہٰذا اگر ایسی املاک کی معلومات ملیں تو انہیں بھی ضبط کرلیا جائے گا۔

News Code 1891929

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 3 + 7 =