نریندر مودی پر تنقید کرنے والے پولیس افسر کو عمر قید کی سزا

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو تنقید کا نشانہ بنانے والے بھارتی پولیس کے اعلیٰ افسر کو 1990 میں ایک شخص کی حراست کے دوراِن ہلاکت پر عمر قید کی سزا سنادی گئی۔

مہر خبررساں ایجنسی نے بھارتی ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو تنقید کا نشانہ بنانے والے بھارتی پولیس کے اعلیٰ افسر سنجیو بھٹ کو 1990 میں ایک شخص کی حراست کے دوراِن ہلاکت پر عمر قید کی سزا سنادی گئی۔ پولیس افسر نے گجرات میں تقریباً ڈیڑھ دہائی قبل ہونے والے ہولناک فرقہ وارانہ فسادات میں نریندر مودی کے ملوث ہونے کا الزام لگایا تھا۔ اطلاعات کے مطابق سنجیو بھٹ نامی پولیس افسر نے سپریم کورٹ میں جمع کروائے گئے ایک حلف نامے میں بتایا تھا کہ وہ اس اجلاس میں موجود تھے جس میں نریندر مودی نے پولیس کو حکم دیا تھا کہ ٹرین آتشزدگی کے واقعے کے بعد ہندوؤں کو " غصہ نکالنے" دیا جائے۔ واضح رہے کہ سال 2002 میں بھارتی ریاست گجرات میں ایک ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں بڑی تعداد مسلمانوں کی تھی اور نریندر مودی اس وقت ریاست کے وزیراعلیٰ تھے۔ تاہم اس طرح کے دعوے کرنے والے متعدد اعلیٰ افسران میں سب سے نمایاں سنجیو بھٹ اجلاس میں اپنی موجودگی ثابت کرنے میں ناکام ہوگئے تھے کیوں کہ ان کے بہت سے گواہ مخالف بن گئے تھے۔اس کے بعد نریندر مودی کو سپریم کورٹ کی نگران و تحقیقاتی ٹیم نے کلیئر قرار دے دیا تھا۔ سنجیو بھٹ کو 2015 میں کام سے بلا اجازت غیر حاضری پر برطرف کردیا گیا تھا اور گذشتہ ایک برس سے وہ ایک علیحدہ کیس میں جیل میں قید تھے۔دوسرے مقدمے میں ان پر ایک وکیل کے پاس سے خود چھپائی گئی منشیات برآمد کر کے اسے گرفتار کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔تاہم جمعرات کے روز جمنا گڑھ کے ضلعی جج سی ایم ویاس نے سنجیو بھٹ اور دیگر افسران کو 1990 میں، جب وہ پولیس چیف تھے، ایک قیدی پر تشدد کر کے ہلاک کردینے کے الزام میں سزا سنادی۔اس حوالے سے پبلک پروسیکیوشن تشار گوکھانی نے بتایا کہ قیدی پرتشدد اور قتل کے الزام میں سنجیو بھٹ کو عمر قید جبکہ دیگر افسران کو 2 سال قید کی سزا سنائی گئی۔

News Code 1891545

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 2 + 1 =