ایران کا مشترکہ ایٹمی معاہدے کی بعض شقوں سے خارج ہونے کا فیصلہ

اسلامی جمہوریہ ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل نے گروپ 1+4 کو مشترکہ ایٹمی معاہدے کے سلسلے میں کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے کے لئے 60 روزکی مہلت دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ مشترکہ ایٹمی معاہدے سے خارج ہوگيا ہے لہذا معاہدے سے کسی ایک فریق کے خارج ہونے کی صورت ميں ایران بھی معاہدے کی بعض شقوں سے خارج ہورہا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل نے ایک بیان میں گروپ 1+4 کو مشترکہ ایٹمی معاہدے کے سلسلے میں کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے کے سلسلے میں 60 روزکی مہلت دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ مشترکہ ایٹمی معاہدے سے خارج ہوگيا ہے لہذا معاہدے سے کسی ایک فریق  کے خارج ہونے کی صورت ميں ایران بھی معاہدے کی بعض شقوں سے خارج ہورہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر اور اعلی سلامتی کونسل کے سربراہ حسن روحانی نے اپنے ایک خط کے ذریعہ  ایران کے اس اہم اور قانونی فیصلے سے جرمنی، برطانیہ، روس اور چين کے سربراہان کو آگاہ کردیا ہے۔

صدر حسن روحانی نے کہا کہ امریکہ غیر قانونی طریقہ سے مشترکہ ایٹمی معاہدے سے خارج ہوگیا امریکہ کے خروج کو ایک سال ہوگیا ہے اور اس مدت میں ایران نے نہایت ہی صبر و تحمل سے کام لیا اور مشترکہ ایٹمی معاہدے پر عمل کا سلسلہ جاری رکھا ۔ اب امریکہ نے ایران کے خلاف یکطرفہ اقتصادی پابندیوں کو دوبارہ عائد کردیا ہے جومشترکہ ایٹمی معاہدے اور بین الاقوامی قوانین کے بالکل خلاف ہیں اور امریکہ کی اس منہ زوری اور غیر قانونی اقدام کے خلاف سکیورٹی کونسل اور مشترکہ ایٹمی معاہدے میں باقی رہنے والے ارکان نے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا ۔ لہذا ایران نے مشترکہ ایٹمی معاہدے میں تعریف شدہ اصولوں کے مطابق  معاہدے کی بعض شقوں سے خارج ہونے کا فیصلہ کیا ہے جن میں یورینیم کی افزودگی اور آب سنگین کو محدود کرنے والی شقیں بھی شامل ہیں۔

ایران معاہدے میں باقی رہنے والے ممالک کو بھی 60 دن کی مہلت دیتا ہے کہ وہ بھی بینک اور تیل کے سلسلے میں کئے گئے اپنے وعدوں پر عمل کریں  اور اگر انھوں نے معاہدے کے مطابق ایران کے ان مطالبات پر بھی عمل نہ کیا اورمشترکہ ایٹمی معاہدے کی روشنی میں ایرانی قوم کے مفادات کو مد نظر  نہ رکھا تو ایران بتدریج اور مرحلہ وار مشترکہ ایٹمی معاہدے سے خارج ہوجائےگا۔

News Code 1890342

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 2 + 4 =