امریکی صدر ٹرمپ کے خلاف ٹھوس شواہد موجود / صدارتی استثنی حائل

امریکہ کے تقریباً 400 سابق وفاقی پراسیکیوٹرز نے ایک مشترکہ خط میں کہا ہے کہ اگر ڈونلڈ ٹرمپ صدر نہ ہوتے تو میولر رپورٹ میں موجود ٹھوس ثبوت کا نتیجہ ان خلاف انصاف کی راہ میں رکاوٹ کے الزامات کے طور پر سامنے آتا۔

مہر خبررساں ایجنسی نے اے ایف پی کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ امریکہ کے تقریباً 400  سابق وفاقی پراسیکیوٹرز نے ایک مشترکہ خط میں کہا ہے کہ اگر ڈونلڈ ٹرمپ صدر نہ ہوتے تو میولر رپورٹ میں موجود ٹھوس ثبوت کا نتیجہ ان خلاف انصاف کی راہ میں رکاوٹ کے الزامات کے طور پر سامنے آتا۔

اطلاعات کے مطابق خط میں کہا گیا کہ خصوصی وکیل رابرٹ میولر کی تحقیقات میں موجود ثبوت اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو رکاوٹ ڈالی گئی وہ ’حد سے زیادہ‘ تھی۔ اس وقت انصاف کی پالیسی کے ڈپارٹمنٹ نے موجودہ صدر پر فرد جرم عائد کرنے سے منع کردیا ہے۔

تاہم اس خط سے یہ امکان ظاہر ہورہا ہے کہ جیسے اس نے ڈونلڈ ٹرمپ کے رویے پر سماعت مقرر کرنے کے لیے کانگریس میں ڈیموکریٹس کی کوششوں کو تقویت دی ہے اور یہاں تک کہ ریپبلکن لیڈر کے خلاف مواخذے کی کارروائی ممکنہ طور شروع ہوسکتی ہے۔

پراسیکیوٹرز کی جانب سے کہا گیا کہ ’ ہر کوئی سمجھتا ہے کہ خصوصی وکیل رابرٹ میولر کی رپورٹ میں ڈونلڈ ٹرمپ کے بتائے گئے طرزعمل کا نتیجہ انصاف کی رکاوٹ پر مختلف سنگین الزمات کی صورت میں نکلتا ہے۔

اس سے قبل  ایوان کی عدالتی کمیٹی کا کہنا تھا کہ وہ بنیادی ثبوتوں کے ساتھ میولر رپورٹ کے غیر تجدید شدہ ورژن فراہم نہ کرنے پر اٹارنی جنرل بل بار سے متعلق توہین عدالت کا اعلان کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔

واضح رہے کہ انتخابات میں روسی مداخلت سے متعلق میولر کی 448 صفحات پر مشتمل تحقیقات رپورٹ تقریباً 2 برس میں مارچ کے اواخر میں مکمل ہوئی تھی، جس میں متعدد مثالیں دی گئی ہیں جس میں ڈونلڈ ٹرمپ کی تحقیقات روکنے کی کوشش سے متعلق متعدد مثالیں دی گئی ہیں۔تاہم میولر نے جسٹس ڈپارٹمنٹ پالیسی کی نشاندہی کی کہ موجودہ صدر کو مجرم قرار نہیں دیا جاسکتا اور نہ ہی انہیں حکمرانی سے روکا جاسکتا ہے چاہے انہوں نے جرم کا ارتکاب کیا ہو۔

News Code 1890334

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 4 + 0 =