سعودی عرب کا ایٹمی پروگرام تشویشناک / آئی اے ای اے کی بھرپور نگرانی ضروری

بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کے سابق ڈپٹی ڈائریکٹر نے سعودی عرب کے ایٹمی پروگرام پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب کا ایٹمی پروگرام تشویشناک ہے اور اس پر بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کی دقیق نگرانی ضروری ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کے بین الاقوامی امور کے نامہ نگار کے ساتھ گفتگو میں بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کے سابق ڈپٹی ڈائریکٹر اولی ہائنن نے سعودی عرب کے ایٹمی پروگرام پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب کا ایٹمی پروگرام تشویشناک ہے اور اس پر بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کی دقیق نگرانی ضروری ہے۔

امریکی کانگریس نے اپنی ایک رپورٹ میں فاش کیا ہے کہ امریکی حکومت ایٹمی پروگرام کے سلسلے میں حساس ٹیکنالوجی سعودی عرب کو فراہم کررہی ہے۔ رپورٹ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور سعودی عرب کے درمیان ایٹم شعبہ میں قریبی تعاون پر سخت تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سکیورٹی کے مسائل کو مد نظر رکھنے کے بغیر سعودی عرب کو حساس ایٹمی ٹیکنالوجی کی فراہمی امریکہ کے لئے خطرے کا باعث بن سکتی ہے۔

بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کے سابق ڈپٹی ڈائریکٹر اولی ہائنن نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ایٹمی تعاون کے بارے میں مہر خبررساں ایجنسی کے نامہ نگار کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایٹمی ٹیکنالوجی سے مثبت اور منفی دونوں پہلوؤں سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔ آج بہت سے ممالک ایٹمی ہتھیار بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں اگر ان پر قریبی اور دقیق نگرانی  نہ رکھی جائے تو پرامن ایٹمی پروگرام کے منحرف ہونے کا قوی امکان ہے۔ اولی ہائنن نے کہا کہ سعودی عرب کے ایٹمی پروگرام پر اسے سخت تشویش لاحق ہے اور وہ بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ سعودی عرب کے ایٹمی پروگرام پر قریبی نظر رکھے۔ اولی ہائنن نے کہا کہ سعودی عرب کےایٹمی پروگرام پر دقیق اور قریبی نگرانی رکھنے کی اشد ضرورت ہے ورنہ سعودی عرب کا ایٹمی پروگرام خود امریکہ اور عالمی برادری کے لئے وبال جان بن جائےگا۔

News Code 1889470

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 2 + 3 =