15 فروری، 2019، 3:45 PM

امریکہ افغانستان سے فوجیوں کی یکطرفہ واپسی نہیں کرے گا

امریکہ افغانستان سے فوجیوں کی یکطرفہ واپسی نہیں کرے گا

پینٹاگون کے چیف نے دعویٰ کیا ہے کہ واشنگٹن افغانستان سے اپنے فوجیوں کی یکطرفہ واپسی نہیں کرے گا اور امن مذاکرات میں کابل حکومت کولازمی حصہ بنایا جائے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے ایسوسی ایٹڈ پریس کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ پینٹاگون کے چیف نے دعویٰ کیا ہے کہ واشنگٹن افغانستان سے اپنے فوجیوں کی یکطرفہ واپسی نہیں کرے گا اور امن مذاکرات میں کابل حکومت کولازمی حصہ بنایا جائے۔ قائم مقام سیکریٹری دفاع پیٹریک شنہان نے کہا کہ افغانستان سے امریکی فوجیوں کی تعداد میں کمی کا فیصلہ نیٹو سے مشاورت کے بعد ممکن ہوگا۔ امریکہ کی جانب سے طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کی کوششیں جاری ہیں تاہم نیٹو کے سیکریٹری جنرل جینفر سٹولٹنبرگ نے اشرف غنی کی افغان حکومت کی امن مذاکرات میں شمولیت میں تاخیر پر خبردار کیا۔ برسلز میں نیٹو ڈیفنس وزرا سے بات چیت کے بعد پیٹریک شنہان نے بیان دیا کہ واشنگٹن اکیلا ہی فیصلہ نہیں کرے گا،میں محسوس کرتا ہوں کہ سفیر زلمے خلیل زاد کو ضرورت کے مطابق سیاسی اہمیت نہیں دی جارہی، ہمیں ضرورت ہے کہ ممکنہ طور پر امن پر بات کی جائے۔ امریکی صدر ڈونلنڈ ٹرمپ کی جانب سے افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کے اعلان کے بعد طالبان نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ اپریل میں افغانستان سے نصف امریکی فوجی واپس لوٹ جائیں گے۔

News ID 1888137

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha