تحریک انصاف کی صوبہ سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت کو گرانے کیلیے سرگرمیاں تیز

تحریک انصاف نے سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت گرانے کیلیے سرگرمیاں تیزکردیں وزیراعظم عمران خان نے فواد چوہدری کوصوبہ سندھ کے حوالے سے خصوصی ٹاسک دیدیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے ایکس پریس کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ تحریک انصاف نے سندھ میں  پیپلز پارٹی کی حکومت گرانے کیلیے سرگرمیاں تیزکردیں وزیراعظم عمران خان نے فواد چوہدری کوصوبہ سندھ کے حوالے سے خصوصی ٹاسک دیدیا ہے۔ وزیراطلاعات کل کراچی کا دورہ کریں گے جہاں وہ سندھ کے مختلف رہنماؤں سے موجودہ سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال اوروزیراعظم کا پیغام پہنچائیں گے۔آئی این پی کے مطابق وزیراطلاعات کل کراچی پہنچیں گے جہاں وہ ذوالفقارمرزا، امیر بخش بھٹواور دیگر سیاسی شخصیات سے ملاقاتیں کریں گے اور جے آئی ٹی رپورٹ پر انھیں اعتماد میں لیں گے اور وزیراعظم کا خصوصی پیغام بھی پہنچائیں گے۔ اطلاعات کے مطابق گزشتہ روز جی ڈی اے اور پی ٹی آئی کا مشترکہ اجلاس سندھ اسمبلی میں اپوزیشن چیمبر میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں جی ڈی اے کی جانب سے حسنین مرزا اور نندکمار جبکہ تحریک انصاف کے اپوزیشن لیڈر فردوس شمیم نقوی نے شرکت کی۔ اس موقع پر حزب اختلاف کی جماعتوں نے وزیراعلیٰ سندھ سے ایک بار پھراستعفی کا مطالبہ کیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ وزیراعلی خود مستعفی ہوجائیں، عہدے پرہوتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ تفتیش پر اثرانداز ہوسکتے ہیں۔ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جی ڈی اے کے پارلیمانی لیڈر حسنین مرزا کا کہنا تھا کہ وزیر اعلی سندھ حق حکمرانی کا اخلاقی ، قانونی، سیاسی جواز کھو چکے ہیں۔ صباح نیوزکے مطابق اس موقع پر جی ڈی اے کی جانب سے اندرون سندھ پییلزپارٹی کیخلاف تحریک چلانیکی تجویزدی گئی جبکہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ  کیخلاف عدم اعتمادکی تحریک لانے پرتبادلہ خیال کیا گیا۔ تحریک انصاف کے رہنما حلیم عادل شیخ نے کہاکہ آصف زرداری کی ممکنہ گرفتاری پر پی پی کے دھڑے بن سکتے ہیں ، انھوں نے دعویٰ کیاکہ پیپلزپارٹی کے 22 ایم پی ایزرابطے میں ہیں۔

ایکسریس نیوز کے مطابق ادھر وزیراعظم کے معاون خصوصی افتخار درانی نے کہا ہے کہ سندھ میں قیادت کی تبدیلی ناگزیر ہوچکی ہے۔ سندھ میں اقتدارکی بازی پلٹنے کے لیے اپوزیشن جماعتوں کومتحد کرنے اورپیپلزپارٹی میں فارورڈ بلاک بنانے کی تحریک انصاف کی کوشش پہلے مرحلے میں ناکامی سے دوچارہوگئی،متحدہ مجلس عمل نے فارورڈ بلاک کے ذریعہ حکومت گرانے کے عمل کا حصہ بننے سے انکارکردیا،حکومت سے ناراض تحریک لبیک نے بھی سندھ میں اقتدارکی رسہ کشی کا حصہ بننے سے معذرت کرلی وزیراعلیٰ سندھ سید مرادعلی شاہ اوران کی کابینہ ارکان کے نام ای سی ایل میں ڈالنے پرسندھ میں اقتدارکی بازی پلٹنے کے لیے متحرک تحریک انصاف کوابتدائی راؤنڈ میں ہی ناکامی کا سامنا ہے اورسندھ اسمبلی میں 2اپوزیشن جماعتوں متحدہ مجلس عمل اورتحریک لبیک کے 4ارکان نے اقتدارکے کھیل کا حصہ بننے سے انکارکردیا ہے سندھ اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں کے ارکان کی تعداد 68 ہے تحریک لبیک کے 3 ارکان اورمتحدہ مجلس عمل کے واحد رکن سندھ اسمبلی کی بغاوت کے بعد اپوزیشن ارکان کی تعداد 64 رہ گئی ہے جبکہ پیپلزپارٹی کی حکومت گرانے کے لیے اپوزیشن جماعتوں کوکم ازکم 85 ارکان کی ضرورت ہوگی۔

News Code 1886873

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 1 + 1 =