پاکستانی حکومت عدلیہ کو مفلوج کرنا چاہتی ہے

پاکستان کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں ججز کی تعداد بڑھانے کے معاملے پر ریمارکس دیتے ہوئے کہاہے کہ پاکستانی حکومت عدلیہ کو مفلوج کرنا چاہتی ہے ۔

مہر خبررساں ایجنسی نے جیونیوز کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ پاکستان کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں ججز کی تعداد بڑھانے کے معاملے پر ریمارکس دیتے ہوئے کہاہے کہ پاکستانی حکومت عدلیہ کو مفلوج کرنا چاہتی ہے ۔ اطلاعات کےمطابق سپریم کورٹ میں مقدمات کی سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل اشتیاق خان سے مکالمہ کیا کہ حکومت کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کی تعداد بڑھانے پر سفارشات بھیجی تھیں لیکن نگران حکومت کے دور کی سفارشات پر کچھ نہیں کیا گیا، انہوں نے کہا کہ حکومت چاہتی ہے عدلیہ مفلوج ہو جائے، اسلام آباد ہائیکورٹ میں اس وقت 4 ججز کام کررہے ہیں جس کی وجہ سے سارا بوجھ ان جج صاحبان پر ہے۔ اس موقع پر جسٹس ثاقب نثار نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ آپ ججز کی تعداد کیوں نہیں بڑھا رہے؟ اسلام آباد ہائی کورٹ میں دو رکنی بینچ تشکیل نہیں دیا جا سکتا، ملک کے تمام ہائی کورٹس اہم ہیں مگر اسلام آبادہائی کورٹ میں بہت اہم کیسز ہیں، ان کا کہنا تھا کہ حکومت اسلام آباد ہائیکورٹ کا معاملہ دیکھے بصورت دیگر عدلیہ کی جانب سے سوموٹو لیا جائے گا ۔

News Code 1886861

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 7 + 8 =