چین میں سابق انٹیلی جنس سربراہ کو عمر قید کی سزا

چین کی ایک عدالت نے سابق انٹیلی جنس سربراہ ما جیان کو بدعنوانی سمیت دیگر جرائم ثابت ہونے پر عمر قید کی سزا سنادی ہے۔

مہر خبررساں نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ چین کی ایک عدالت نے سابق انٹیلی جنس سربراہ ما جیان کو بدعنوانی سمیت دیگر جرائم ثابت ہونے پر عمر قید کی سزا سنادی ہے۔ اے ایف پی  کے مطابق چین کے صوبہ لیاوننگ کی ڈالیان انٹرمیڈیٹ پیپلز کورٹ نے فیصلے میں بتایا کہ ما جیان نے رشوت وصول کرنے  ادارے میں اندرونی طور پر تجارت کرنے اور دیگر افراد کو تجارت پر مجبور کرنے کے جرائم کا اعتراف کیا۔ عدالت نے کہا کہ جرائم کا اعتراف کرنے پر ما جیان کو قصوروار قرار دیا جاتا ہے جبکہ انہوں نے فیصلے کے خلاف اپیل نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔فیصلے میں مزید کہا گیا کہ ما جیان کے سیاسی حقوق واپس لے لیے گئے ہیں اور ان کے ذاتی اثاثے بھی ضبط کرلیے گئے ہیں۔چین کی وزارت برائے ریاستی سیکیورٹی کے سابق ڈپٹی سربراہ ما جیان کے خلاف 2015 میں کرپشن کے الزامات پر تفتیش کا آغاز ہوا جس کے ایک سال بعد انہیں حکمراں جماعت کمیونسٹ پارٹی سے نکال دیا گیا تھا۔ عدالت نے بتایا کہ ریاستی رازوں کی وجہ سے ما جیان کے خلاف اگست میں بند کمرہ سماعت کی گئی تھی۔فیصلے میں کہا گیا کہ 1999 سے 2014 تک ما جیان نے اپنے عہدے کو چینی ارب پتی شخص گیو وینگئی کو کاروباری فوائد پہنچانے کے لیے استعمال کیا اور رشوت کی مد میں ایک کروڑ 59 لاکھ ڈالر وصول کیے۔عدالتی فیصلے کے مطابق 2013 میں ما جیان نے اپنے رشتہ داروں کے ذریعے تجارت کرتے ہوئے 4 کروڑ 90 لاکھ یوآن کے اسٹاک بیچے تھے۔عدالت کا کہنا تھا کہ ’ما جیان کی جانب سے رشوت کی مد میں وصول کی گئی رقم کافی زیادہ تھی جس کی وجہ سے عوام اور قومی مفادات کو بھاری نقصان پہنچا، جبکہ سرکاری ملازمین کی ایمانداری کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ واضح رہے کہ چین کی وزارت برائے ریاستی سیکیورٹی کو سوویت یونین کی ریاستی ایجنسی 'کے جی بی' کے برابر قرار دیا جاتا ہے۔

News Code 1886841

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 7 + 0 =