پاکستانی صدر کے خلاف دائر درخواست سماعت کے لیے منظور

پاکستان کے سندھ ہائی کورٹ میں پاکستانی صدرعارف علوی کے صدرِ منتخب ہونے کے خلاف دائر درخواست کو فوری سماعت کے لیے منظور کرلیا گيا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے ڈان کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ پاکستان کے سندھ ہائی کورٹ  میں پاکستانی صدرعارف علوی کے صدرِ منتخب ہونے کے خلاف دائر درخواست کو فوری سماعت کے لیے منظور کرلیا گيا ہے۔  درخواست گزار عظمت ریحان نے اپنی درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ  صدرعارف علوی نے عدالتی ریکارڈ میں ٹیمپرنگ کی۔  انہوں نے بتایا کہ صدر عارف علوی نے 1977 سے عدالت میں زیرِ سماعت کیس میں 3 مرتبہ اپنا حلف نامہ جمع کروایا اور انہوں نے تینوں مرتبہ اس میں غلط بیانی اور جھوٹ سے کام لیا ہے۔  درخواست میں کہا گیا کہ صدرعارف علوی نے دستاویزات جمع کرواکر ہاکس بے پر 1810 ایکڑ زمین کے کیس کا فیصلہ اپنے حق میں کروایا تھا، اور وہ ایک ٹرسٹ کے شریک ٹرسٹی بھی ہیں۔  ان کا مزید کہنا تھا کہ سندھ ہائی کورٹ کے موجودہ چیف جسٹس نے ڈاکٹر عارف علوی کے خلاف حکم نامہ جاری کیا تھا۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ عدالتی ریکارڈ میں ٹیمپرنگ کرنے ولا شخص پاکستان کا صدر نہیں بن سکتا۔ سندھ ہائی کورٹ نے عظمت ریحان کی درخواست کو فوری سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے فریقین کو یکم جنوری تک جواب جمع کروانے کا حکم بھی دے دیا ہے۔  عظمت ریحان نے اپنی درخواست میں وفاقی حکومت، الیکشن کمیشن پاکستان (ای سی پی) اور دیگر کو فریق بنایا ہے۔

واضح رہے کہ 4 ستمبر کو ہونے والے صدارتی انتخاب میں ڈاکٹر عارف علوی 352 الیکٹورل ووٹ حاصل کرکے پاکستان کے 13 ویں صدر منتخب ہوئے تھے۔

News Code 1886727

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 3 + 6 =