فرانس میں مظاہروں کے دوران ایک خاتون ہلاک اور 106 افراد زخمی

فرانس میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف ملک بھر میں مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ مظاہروں کے دوران ایک خاتون ہلاک اور 106 افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی نے فرانسیسی خبررسان ایجنسی کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ فرانس میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف ملک بھر میں مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ مظاہروں کے دوران ایک خاتون ہلاک اور 106 افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ فرانس کے وزیرداخلہ کرسٹوفر کیسٹینر کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ 2 لاکھ 44 ہزار افراد نے ملک بھر کی اہم شاہراہوں سمیت 2 ہزار سے زائد مقامات پر احتجاج کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اکثر مقامات میں کوئی ناخوش گوار واقعہ پیش نہیں آیا تاہم چند مقامات پر ڈرائیوروں کی جانب سے گاڑیوں کو آگے بڑھانے کی کوشش پر تلخ کلامی کے باعث بدمزگی دیکھی گئی۔ دیگر مظاہروں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے پولیس کا کہنا تھا کہ احتجاج کے دوران متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں جن میں ایک پولیس افسر بھی شامل ہے۔فرانس کو اسپین سے ملانے والی سرحد اور چند شاہراہوں کو مکمل طور پر بند کردیا گیا۔وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ ‘عوام کے غیرمنظم احتجاج پر ہم اس لیے فکرمند تھے کیونکہ وہ غیرضروری طور پر اس طرح کا رویہ اپنائیں گے’۔دارالحکومت پیرس میں صدر میکرون کے سرکاری محل کی جانب مارچ کرنے والے مظاہرین " میکرون استعفیٰ دو " کے نعرے لگارہے تھے۔پولیس نے صدارتی محل کی جانب جانے والے مظاہرین کو روکنے کی کوشش کی جس پر ہاتھاپائی ہوئی اور ہزاروں مظاہرین مختلف راستوں اور گلیوں سے ہوتے ہوئے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے رہے تاہم صدر کی رہائش گاہ کے قریب پولیس نے مظاہرین پر آنسو گیس کے شیل پھینکے۔

وزارت داخلہ کے مطابق 52 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے اور 106 افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں سے 5 کی حالت تشویش ناک ہے۔

News Code 1885720

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 3 + 2 =