24 ستمبر، 2016، 12:22 AM

امریکہ میں نسلی فسادات مختلف شہروں میں پھیل گئے

امریکہ میں نسلی فسادات مختلف شہروں میں پھیل گئے

امریکہ میں سیاہ فام باشندوں کے پولیس کے ہاتھوں پے در پے قتل کے واقعات نسلی فسادات پھیل گئے ہیں دو روز قبل شارلٹ میں ایک اور سیاہ فام باشندے کے قتل کے بعد پورے امریکہ میں نسلی فسادات پھیل گئے ہیں ۔

مہر خبررساں ایجنسی نے ایسوسی ایٹڈ پریس کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ امریکہ میں سیاہ فام باشندوں کے پولیس کے ہاتھوں پے در پے قتل کے واقعات نسلی فسادات پھیل گئے ہیں دو روز قبل شارلٹ میں ایک اور سیاہ فام باشندے کے قتل کے بعد پورے امریکہ میں نسلی فسادات پھیل گئے ہیں ۔ اطلاعات کے مطابق کے مطابق 43 سالہ افریقی نژاد کیتھ لیمنٹ سکاٹ کو 26 سالہ سفید فام پولیس اہلکار برینٹلی ونسن نے گولیاں مار کر ہلاک کردیا تھا۔ امریکہ کے سیاہ فام شہریوں نے ایک بار پھر الزام لگایا ہے کہ سفید فام پولیس اہلکاروں نے ایک سیاہ فام باشندے کو محض اس کی رنگت کی بنا پر گولیوں سے بھون کر رکھ دیا، جبکہ اس کی جانب سے ہرگز کوئی مزاحمت یا اشتعال انگیزی نہیں کی جارہی تھی۔ اس واقعہ کے بعد متعدد شہروں میں احتجاج اور ہنگاموں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ شارلٹ میں گزشتہ روز ہونے والے ہنگاموں نے سنگین صورت اختیار کرلی اور سیاہ فام باشندوں کو جہاں بھی سفید فام امریکی نظر آتے ہیں ان پر حملہ کر دیا جاتا ہے۔ گزشتہ روز مظاہرین نے اپنے راستے میں آنے والے ہر سفید فام باشندے کو پیٹنے کا سلسلہ جاری رکھا جبکہ صحافیوں پر بھی خوب غصہ نکالا۔ ایک صحافی کو بے ہوشی کی حالت میں اٹھا کر بڑھکتی ہوئی آگ کے پاس پھینک دیا گیا جبکہ امریکی ٹی وی سی این این کے ایک رپورٹر کو بھی دھکا دے کر سڑک پر گرا دیا گیا۔
شدید ہنگاموں کے بعد ریاست شمالی کیرولائنا کے گورنر پیٹ میک رائے نے ہنگامی حالت کا نفاذ کردیا ہے جبکہ مظاہروں پر قابو پانے کے لئے نیشنل گارڈ کو بھی طلب کرلیا گیا ہے۔ بینک آف امریکہ، ویلز فارگو، ڈیوک انرجی اور دیگر بڑی کمپنیوں نے شارلٹ میں اپنے دفاتر بھی بند کردئیے ہیں جبکہ شہر کی میئر جینیفر رابرٹ کرفیو نافذکرنے پر بھی غور کررہی ہیں۔
 

News ID 1867133

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha