کوئٹہ میں خونخوار وہابی دہشت گردوں کے حملے میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 72 تک پہنچ گئی

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے سول اسپتال پر وہابی دہشت گردوں کے خونی حملے میں جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد 72 تک پہنچ گئی ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے جنگ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے سول اسپتال پر وہابی دہشت گردوں کے خونی حملے میں جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد 72 تک پہنچ گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق سانحہ سول اسپتال کوئٹہ کے مزید دو زخمی دم توڑگئے جس کے بعد جاں بحق ہونےوالوں کی تعداد 72ہوگئی جبکہ سو سے زائد افراد زخمی ہیں۔ جاں بحق ہونیوالوں میں ایک وکیل اورایک 14سالہ بچہ شامل ہے۔ جاں بحق وکیل کی شناخت نقیب اللہ ایڈووکیٹ کےنام سےہوئی۔

ادھرکوئٹہ کےسانحہ سول اسپتال میں جاں بحق ہونے والے بیشتر وکلا کو کوئٹہ سمیت صوبے کےمختلف علاقوں میں سپردخاک کردیاگیا۔تدفین کےبعد مقتولین کے لئے فاتحہ خوانی کا سلسلہ جاری ہے۔
جاں بحق افراد میں بیشتر وکیل تھےجنہیں کوئٹہ سمیت ہرنائی، مستونگ، نوشکی، تربت،مسلم باغ،قلعہ سیف اللہ ، پشین اور قلعہ عبداللہ میں سپرد خاک کردیاگیا۔تدفین کے بعد مقتولین کی فاتحہ خوانی کا سلسلہ جاری ہے سینئر وکیل رہنماء محمد کاکڑ کو ان کےآبائی علاقے مسلم باغ میں سپرد خاک کیاگیا۔
سینیٹر ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی کےبیٹےسنگ جمالدینی ایڈووکیٹ کو نوشکی میں سپردخاک کیاگیا۔ وکیل چاکر رند کی میت تدفین کے لئے تربت بھجوائی گئی، فائرنگ میں جاں بحق صدربلوچستان بار بلال انور کاسی اور دھماکے میں شہید داؤدکاسی،بیرسٹر عدنان کاسی،وزیرکاسی اورگل زرین کاسی کو کوئٹہ کےمختلف قبرستانوں میں سپردخاک کیاگیا۔
دھماکے میں شہید قاضی بشیر احمدایڈووکیٹ کو مستونگ جبکہ سید محب اللہ شاہ کو ہرنائی میں سپردخاک کیاگیا جبکہ اقلیتی سینئروکیل آرتھر وکٹرایڈووکیٹ کی تدفین کوئٹہ کےگورا قبرستان میں کی گئی،کوئٹہ کے سینئر وکیل رشید کھوکھر کو آج سہ پہر کوئٹہ کےکاسی قبرستان میں سپردخاک کیاجائےگا۔
سول اسپتال دھماکےمیں شہید آج ٹی وی کےکیمرہ مین شہزاد خان کی آبائی علاقے مستونگ جبکہ ڈان نیوز کےکیمرہ مین محمود خان کی کوئٹہ کےکلی عالمو کےقبرستان میں سپردخاک کیا گيا ہے۔واضح رہے کہ کوئٹہ کے المناک واقعہ کی ذمہ د اری طالبان پاکستان سے منسلک وہابی دہشت گرد تنظیم الاحرار نے قبول کرتے ہوئے اس طرح کے مزيد حملوں کی دھمکی دی ہے۔ پاکستانی حکومت کو چاہیے کہ وہ دہشت گردوں کے اصلی وہابی مراکز اور مدارس کو ترکی کی طرح فوری طور پر بند کردے اور وہابی نظریہ پر پابندی عائد کرتے ہوئے وہابی خیالات اور ںظریات کو پاکستان میں ممنوع قراردیدے۔کیونکہ یا رسول اللہ (ص) کے منکروں کی پاکستان میں کوئی جگہ نہیں ہے۔

News Code 1866102

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha