اپوزیشن نے نواز شریف کے لئےاب 70 سوالات پر مشتمل نیا سوالنامہ تیار کرلیا

پاکستان میں متحدہ اپوزیشن نے پانامہ لیکس کے معاملے پر وزیر اعظم نواز شریف کے لیے 7 سوالات کے بعد اب 70 سوالات پر مشتمل نیا سوالنامہ تیار کرلیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے پاکستانی ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ پاکستان میں متحدہ اپوزیشن نے پانامہ لیکس کے معاملے پر وزیر اعظم نواز شریف کے لیے 7 سوالات کے بعد اب 70 سوالات پر مشتمل نیا سوالنامہ تیار کرلیا ہے۔  اسلام آباد میں متحدہ اپوزیشن کا اجلاس قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ کی زیر صدارت ہوا، جس میں وزیر اعظم کے قومی اسمبلی میں خطاب کے اپوزیشن کے آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کیا گیا۔

اجلاس میں متحدہ اپوزیشن نے وزیر اعظم سے پوچھنے کے لئے 70 سوالات پر مشتمل نئے سوالنامے کی منظوری دی۔

اپوزیشن نے نئے سوالنامے میں وزیر اعظم سے استفسار کیا ہے کہ وہ وضاحت کریں کہ ان کے خاندان نے حوالہ اور ہنڈی کے ذریعے بیرون ملک پیسے بھجوائے۔

13 صفحات پر مشتمل اس سوالنامے میں وزیر اعظم سے جو اہم سوالات کیے گئے ہیں، ان کی تفصیلات درج ذیل ہے۔

۔ کیا یہ سچ نہیں کہ آپ کے کزن اور بزنس پارٹنر خالد سراج نے اپنے ایک بیان میں شریف خاندان کی کرتوتوں، بیرون ملک فنڈز کی منتقلی اور اثاثوں کے حوالے سے انکشاف کیا تھا؟

۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ 1988 سے 1991 تک تقریباً 5 کروڑ 68 لاکھ ڈالر ملک سے باہر بھیجے گئے؟

۔ کیا آپ یہ تسلیم نہیں کریں گے کہ 1988 میں تقریباً 75 لاکھ ڈالر سے زائد رقم بینک آف عُمان، شارجہ سے بینک آف عُمان، لاہور بھجوائی گئی؟

۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ 1988 سے 1991 تک آپ اور آپ کے خاندان نے 14 کروڑ سے زائد رقم کی منی لانڈرنگ کی، جبکہ آپ نے اس عرصے میں صرف 897 روپے انکم ٹیکس ادا کیا گیا؟

اس سے ظاہر ہے کہ حوالہ اور ہنڈی کے ذریعے رقم باہر بھجوانے کا مقصد کالے دھن کو تحفظ دینا تھا۔

۔ کیا یہ سچ نہیں کہ ایف ای بی سی اسکیم آپ کے پہلے وزارت عظمیٰ کے دور میں شروع کی گئی، تاکہ ان کے بیرون ملک بھجوائی گئی رقم پر کوئی سوال نہ اٹھایا جاسکے؟

۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ آپ کی ذاتی ہدایت میں چلنے والی ایف ای بی سی اسکیم کی وجہ سے ملکی خزانے کو بڑا نقصان پہنچا، جبکہ کرپٹ مافیا، ٹیکس چوروں اور ناجائز طریقوں سے جائیدادیں بنانے والوں کو قانونی تحفظ فراہم ہوا؟

۔ کیا یہ درست نہیں کہ پاناما لیکس میں آپ کے حوالے سے جن 6 آف شور کمپنیوں کے نام سامنے آئے، ان کے آپ براہ راست مالک تھے اور یہ آف شور کمپنیاں 1993 میں آپ کی وزارت عظمیٰ کے دور میں قائم کی گئیں؟

۔ کیا یہ سچ نہیں ان آف شور کمپنیوں میں سے چند آپ کی صاحبزادی مریم نواز کی ملکیت ہیں؟

۔ کیا یہ حقیقیت نہیں کہ 2011 اور 2012 میں آپ نے ظاہر کیا کہ مریم نواز آپ پر انحصار کرتی ہیں، جن کا اپنا کوئی ذریعہ معاش نہیں ہے؟

۔ کیا یہ سچ نہیں کہ ان آف شور کمپنیوں سے لندن میں 2007 سے 2008 کے دوران 6 جائیدادیں خریدی گئیں؟

۔ کیا یہ درست نہیں 1993 میں پارک لین اپارٹمنٹ 17 کی خریداری کے وقت دستاویزات کے مطابق حسن نواز کی عمر 17 سال تھی؟

۔ کیا آپ اس سے اتفاق نہیں کریں گے کہ 1995 سے 1996 کی مدت میں لندن میں مزید تین اپارٹمنٹس خریدے گئے؟

۔ کیا یہ درست نہیں کہ حسن نواز نے 2004 میں لندن میں 12A فلیٹ خریدا؟

۔ کیا یہ سچ نہیں کہ اپارٹمنٹس کی خریداری کے وقت آپ کے بچے نابالغ اور طالب علم تھے؟

۔ کیا یہ حقیقیت نہیں آپ نے 1990 میں، بطور وزیر اعظم اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے رمضان شوگر مل کے لیے فیصل بینک سے 3 کروڑ ڈالر کا قرض لیا؟

اسی طرح کئی سوالات ایسے ہیں جن کو نئے سوالنامے میں شامل کیا گیا ہے۔

News Code 1864076

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 6 + 8 =