پاکستان کا کسی کی لڑائی میں نہ کودنے کا فیصلہ /امریکہ ایشیاء میں عدم استحکام کا باعث

پاکستان کے مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز نے امریکی صدر باراک اوبامہ کے خطاب کو جنوبی ایشیا کے حقائق کے برعکس قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں عدم استحکام کی وجہ خود امریکی پالیسیاں ہیں اور اب پاکستان کسی کی لڑائی میں نہیں کودےگا۔

مہر خبررساں ایجنسی نے ڈان نیوز کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ پاکستان کے مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز نے امریکی صدر باراک اوبامہ کے خطاب کو جنوبی ایشیا کے حقائق کے برعکس قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں عدم استحکام کی وجہ خود امریکی پالیسیاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خطے سمیت پوری دنیا میں دہشت گردی بڑھ رہی ہے اس لیے اوبامہ کےخدشات کی اور وجوہات بھی ہوسکتی ہیں۔ مشیر خارجہ نے زور دیا کہ اوباما کے نکات سے بطور چیلنج نمٹنا ہوگا اور امریکی صدر کو بتانا ہوگا کہ ان کی پیش گوئیاں درست نہیں۔سرتاج عزیز کے مطابق 2014 کے مقابلے میں 2015 میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی ہوئی تاہم انہوں نے آگاہ کیا کہ اب کسی کی لڑائی میں نہ کودنے کا فیصلہ کرلیاگیا ہے۔سرتاج عزیز نےاعتراف کیا کہ پاکستان اور امریکہ نے مل کر روس کے خلاف افغان مجاہدین کو تربیت دی لیکن جب عکسریت پسند خطرہ بنے تو پالیسی تبدیلی کرنا پڑی۔واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے اسٹیٹ آف دی یونین سے آخری خطاب میں باراک اوبامہ نے القاعدہ اور داعش کو امریکی عوام کے لیے براہ راست خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان، افغانستان اور وسط ایشیاء کے علاقے دہشت گردوں کے مضبوط ٹھکانے ہوسکتے ہیں۔

News Code 1861163

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 5 + 7 =