مہر خبررساں ایجنسی نے بی بی سی کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقہ شمالی وزیرستان سے فوجی آپریشن کے بعد فرار کرنے والے طالبان دہشت گرد بڑی تعداد میں ایک بار پھر افغانستان میں جمع ہورہے ہیں جہاں وہ افغانستان کے طالبان دہشت گردوں کی مزید قوت کا سبب بن گئے ہیں۔اطلاعات کے مطابق پاکستانی فوج کی جانب سے 15 جون سے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں جاری کارروائی کے نتیجے میں پاکستانی طالبان نے بڑی تعداد میں افغانستان کا رخ کیا ہے۔
بعض افغان تجزیہ کار کابل اور دیگر علاقوں میں طالبان کے حملوں میں اضافے کی ایک وجہ پاکستانی شدت پسند طالبان کی آمد کو بھی قرار دے رہے ہیں لیکن پاکستان میں اس بارے میں شکوک و شبہات موجود ہیں۔شمالی وزیرستان میں فوجی کارروائی کو ایک ماہ سے زیادہ وقت گزر چکا ہے اور فوج ساڑھے چار سو سے زائد ملکی اور غیر ملکی شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کر رہی ہے، لیکن ایک اندازہ یہ بھی ہے کہ شدت پسند، خصوصاً ان کی قیادت، بڑی تعداد میں کارروائی کے آغاز سے قبل ہی وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہو گئی تھی۔
آپ کا تبصرہ