مہر خبررساں ایجنسی نے الجزیرہ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ مصرنے 1973ء کی جنگ کے بعد پہلي مرتبہ صحرائے سيناء ميں جنگي جہاز اور ٹينک بھيجنے کا فيصلہ کيا ہے۔ مصري فوج نے غزہ پٹي کے ساتھ سرحدي علاقوں ميں شدت پسندوں کے خلاف کارروائي کرنے کے ليئے بھاري ہتھيار اور فوجي گاڑياں سميت جنگي طياروں اور ٹينکوں کے استعمال پر غورکر رہي ہے.اس سلسلے ميں قاہرہ کے سکيورٹي ذرائع نے انکشاف کيا ہے کہ وزير دفاع جنرل عبدالفتاح السيسي اس منصوبے کو حتمي شکل دے رہے ہيں،اور انکاسيناء کا دورہ اس منصوبے کا حصہ ہے.اسرائيلي فوج نے اپني جانب سے مصر کي سرحد کے ساتھ اينٹي راکٹ سسٹم آئرن ڈوم نصب کرديا ہے.اسرائيلي فوج کے مطابق آئرن ڈوم بيٹري کو في الوقت تجرباتي طور پر ايلات ميں نصب کيا گيا ہے، اسرائيل نے الزام لگايا ہے کہ مصر ي سرحد کے جانب سے ايلات شہر پر دوراکٹ داغے گئے ہيں.
مصرنے 1973ء کی جنگ کے بعد پہلي مرتبہ صحرائے سيناء ميں جنگي جہاز اور ٹينک بھيجنے کا فيصلہ کيا ہے۔
News ID 1677110
آپ کا تبصرہ