مہر خبررساں ایجنسی نے فرانسیسی خبررساں ایجنسی کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ کے جنوبی ضلع بنوں کی جیل پر طالبان شدت پسندوں نے حملہ کرکے 384 قیدیوں کو آزاد کرالیا ہے۔ قیدیوں میں اکثریت شدت پسندوں کی ہے۔ ادھر کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے بنوں کی سینٹرل جیل پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ فرار ہونے والوں میں اہم طالبان کمانڈر بھی شامل ہیں۔ بنوں پولیس کے ایک اہلکار کے مطابق حملے میں طالبان تین سو چوراسی قیدیوں کو رہا کروا کے اپنے ساتھ لیجانے میں کامیاب ہو گئے۔انہوں نے کہا کہ فرار ہونے والے قیدیوں میں زیادہ تر طالبان شدت پسند تھے جن کو سزا بھی ہوئی تھی۔ اہلکار کے مطابق شدت پسند طالبان کے حملے میں فرار ہونے والوں میں اہم شدت پسند کمانڈر بھی شامل ہیں۔جن کا تعلق تحریک طالبان پاکستان سے بتایا جاتا ہے۔ایک اور پولیس اہلکار نے بتایا کہ ان میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف پر حملے کے الزام میں سزائے موت پانے والے قیدی عدنان رشید بھی شامل ہیں۔ پولیس حکام کے مطابق حملے کے وقت جیل میں نو سو چھیالیس قیدی موجود تھے۔جن میں بعض قیدیوں نے طالبان کے ساتھ جانے سے خود انکار کیا۔ پولیس کے مطابق طالبان شدت پسندوں نے ایک گھنٹے سے زیادہ جیل کے اندر کارروائی کی ہے اور اس حملے میں جیل کی چار دیواری اور کمروں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔دریں اثناء کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے صوبہ خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع بنوں کی سینٹرل جیل پر حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ طالبان دہشت گردوں کو وہابی مذہبی تنظیموں اور سعودی عرب کی بھر پور حمایت حاصل ہے۔
پاکستان
صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع بنوں کی جیل سے 384 قیدی فرار/ طالبان نے ذمہ داری قبول کرلی
مہر نیوز- 15 اپریل 2012ء: پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ کے جنوبی ضلع بنوں کی جیل پر طالبان شدت پسندوں نے حملہ کرکے 384 قیدیوں کو آزاد کرالیا ہے۔
News ID 1577668
آپ کا تبصرہ