4 نومبر، 2011، 9:49 AM

تصویر کے ہمراہ

سعودی عرب نے اسلامی آثارکو تباہ کردیا/پیغمبر اسلام کا محل ولادت تخریب

سعودی عرب نے اسلامی آثارکو تباہ کردیا/پیغمبر اسلام کا محل ولادت تخریب

مہر نیوز- 4 نومبر 2011ء: سعودی عرب کی ابو جہل و ابو لہب صفت وہابی حکومت نے مدینہ منورہ میں جنت البقیع سے لیکر ملک کے تمام حصوں میں اسلام کے تاریخي اور یادگار مقامات کو منہدم کرکے اسلامی میراث کو زبردست نقصان پہنچایا ہے سعودی حکومت نے پیغمبر اسلام (ص)کی ولادت کی جگہ کو بھی تخریب کردیا ہے۔

مہرخبررساں ایجنسی کے نامہ نگارکی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کی ابو جہل و ابو لہب صفت وہابی حکومت نے مدینہ منورہ میں جنت البقیع سے لیکر ملک کے تمام حصوں میں اسلام کے تاریخي اور یادگار مقامات کو منہدم کرکے اسلامی میراث کو زبردست نقصان پہنچایا ہے سعودی حکومت نے پیغمبر اسلام (ص)کی ولادت کی جگہ کو بھی تخریب کردیا ہے۔ بہت سے اسلامی ممالک کے حجاج کے لئے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ سعودی حکومت نے کیوں ان تاریخی اور یادگار مقامات کو تباہ کیا ہے کیا سعودی عرب اپنے مغربی آقاؤں کو خوش کرنے کے لئے سرزمین وحی سے اسلامی آثار کو بالکل نابود کرنا چاہتا ہے؟ سعودی عرب کی وہابی حکومت نے ایک دن پیغمبر اسلام (ص)کی پیدائش کے مقام کو تباہ کیا ، دوسرے دن حضرت خدیجہ (س) کی ولادت کے مقام کو تباہ کیا اور پھر جنت البقیع میں ازواج رسول (ص) ، اہلبیت رسول (ص) اور اصحاب رسول (ص) کے روضوں کو مسمارکیا اور آج بھی سعودی حکومت مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں اسلامی آثار کو مسلسل مٹا رہی ہے ۔


الجزیرہ ٹی وی چینل کے مطابق سعودی حکومت منظم پروگرام کے تحت اسلامی آثار کو محو کرنے میں جٹی ہوئی ہے اور اسلامی آثار کو محو کرکے ان پر تجارتی کمپلیکس تعمیر کررہی ہے تمام مسلمانوں کا فریضہ ہے کہ وہ سعودی عرب کے خائنانہ اور منافقانہ اقدامات کو رکوانے کے لئے آواز بلند کریں۔ مسلمانوں کا کہنا ہے کہ اپنے آپ کو خادم الحرمین کہلوانے والے در حقیقت خائن الحرمین ہیں کیونکہ انھوں نے حرمین کے تقدس کو بری طرح پامال کیا ہے آل سعود نے اپنے قصر تو مسجد الحرام سے بھی اونچے تعمیر کئے ہیں لیکن انھوں نے تمام اسلامی آثار کو نابود کردیا ہے دوسرے لفظوں میں کہا جاسکتا ہے کہ بیت المقدس پر یہودیوں نے آشکارا قبضہ کررکھا ہے لیکن سرزمین  یثرب و بطحا و مکہ و مدینہ پر یہودیوں کا آل سعود کے ذریعہ مخفیانہ قبضہ چل رہا ہے۔

News ID 1451740

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha