مہر خبررساں ایجنسی نے المنار ٹی وی کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ 33 دن کی لڑائی میں حزب اللہ لبنان کی فتح کی دوسری برسی کے موقع پر حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصراللہ نے کہا ہے کہ اس جنگ میں جو کچھ ہوا وہ حقیقت میں ایک الہی معجزہ اور علاقہ کی سب سےقوی و مضبوط فوج پر ایک ایسے کمزور اور باایمان گروہ کی عظيم اور تاریخی فتح ہے جس کے پاس نہ تو فوجی ساز و سامان تھا اور نہ ہی افرادی قوت تھی۔ سید حسن نصراللہ نے کہا کہ جنگ کے بعد اسرائیل کے اعلی سیاسی اور فوجی عہدیداروں کے استعفوں نے اسرائیلی حکومت میں تہلکہ مچا دیا اور آج بھی اسرائیلی حکومت اس بحران سے دوچار ہے اور ستمبر میں اسرائیلی وزیر اعظم ایہود اولمرٹ کا استعفی بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہوگا۔ سید حسن نصراللہ نے کہا کہ اسرائیل آج فلسطینی میزائلوں سے بھی خوفزدہ ہے اور انکے مد مقابل اپنی شکست کا اعتراف کررہا ہے اور اس شکست سے بچنے کے لئے شام کو ایران سے جدا کرنے کی کوشش میں ہے سید حسن نصراللہ نے کہا کہ اسرائیل کی طرف سے حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کی تمام کوششیں ناکام ہوگئی ہیں اور حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کی کوششیں اسرائیل کا ایک واضح مقصد تھا جو ناکام ہوگيا ہے۔ سید حسن نصراللہ نے لبنانی گروہوں سے متحد رہنے پر تاکید کی اور کہا کہ تمام گروہوں کو حکومت کے بیانیہ کے مطابق عمل کرنا چاہیے اور اسرائیل کو لبنانی گروہوں کے درمیان اختلافات پیدا کرنے کی اجازت نہیں دینا چاہیے۔
سید حسن نصراللہ نے صہیونیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہم آپ سے بالکل ہراساں نہیں ہیں ہمیں معلوم ہے کہ آپ نے دہشت گردی کو ہوا دینے اور مختلف افراد کو قتل کرنے کی نئے منصوبے بنا رکھے ہیں ۔ سید حسن نصراللہ نے کہا کہ حزب اللہ حکومت کے ساتھ تمام میدانوں میں تعاون کرنے کے لئے تیار ہے اور ہم حکومت کے ساتھ تمام دفاعی اور اقتصادی امور کو برطرف کرنے کے لئے تعاون کریں گے۔ سید حسن نصراللہ نے طرابلس کے بم دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ پوری قوم پر حملہ ہے انھوں نے اس حملے میں شہید ہونے والے فوجیوں اور سول افراد کے خاندان والوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیااور انھیں تعزیت پیش کی۔
سید حسن نصراللہ نے کہا کہ عراق میں بھی مقاومت جاری ہے لیکن اس مقاومت سے مراد وہ لوگ نہیں ہیں جو عراقی عوام کو دہشت گردی کا نشانہ بنا رہے ہیں اور بم دھماکے کرکے انھیں قتل کررہے ہیں انھوں نے کہا کہ عراقی عوام کو قتل کرنے والے گروہ درپردہ امریکی مفادات میں کام کررہے ہیں انھوں نے کہا کہ عوامی ، اسلامی اور مذہبی اجتماعات میں بم دھماکے کرانا اسلامی اور انسانی روایات کے بالکل خلاف ہے اور کوئی بھی آئین و مذہب اس کی اجازت نہیں دیتا ہے۔ سید حسن نصراللہ نے روس اور جارجیا کے درمیان کشیدگی اور جنگ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ کے ساتھ 33 دن کی لڑائی میں اسرائیل کے شکست خوردہ جنرلوں نے وہاں بھی جنگ کے شعلے بھڑکائے ہیں۔
آپ کا تبصرہ