مہرخبررساں ایجنسی نے رائٹرز کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ امریکی حکام نے اسرائیل کے لئے ایٹمی جاسوسسی کرنے والے ایک فرد کو گرفتار کرنے کا اعلان کیا ہے جو اسرائيل کو ایٹمی معلومات فراہم کررہا تھا۔ یہ شخص امریکی یہودی کادیش ہےامریکہ محکمہ انصاف نے بین ایمی کادیش پر الزام عائد کیا کہ اس نے انیس سو اسی کی دہائی میں جوہری ہتھیاروں، جنگی طیاروں اور پیٹریاٹ میزائلوں کے بارے میں خفیہ معلومات اسرائیل کے حوالے کیں۔
کادیش نے دس سال تک نیو جرسی میں قائم ایک فوجی سازوسامان کے تحقیقی ادارے میں بطور انجنیئر کام کیا اور اس دوران وہاں سے خفیہ معلومات چرا کر اسرائیل کے حوالے کیں۔
اسرائیلی جاسوس پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ خفیہ معلومات جمع کر کے گھر لےجاتا تھا جہاں ایک اسرائیل شہری ان کی نقل بنا لیتا تھا۔خفیہ دستاویز کی نقل تیار کرنے والے شخص اسرائیلی ایمبسی میں کام کرتا تھا۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ایک ترجمان ٹام کے سی نے کہا ہے کہ ملزم کی سرگرمیاں کا تعلق دو دہائیوں پرانے واقعات سے ہے۔کادیش کا تعلق بھی اسرائیلی جاسوس پولارڈ سے تھا جو اسرائیل کے لیے جاسوسی کے الزام میں سزا پانے کے بعد عمر قید کی سزا بھگت رہا ہے۔
مبصرین کا خیال ہے کہ امریکی ایٹمی معلومات مکمل طور پر اسرائیل کو منتقل ہوچکی ہیں ۔ اور اطلاعات فراہم کرنے میں خود امریکی حکومت کا ہاتھ ہے۔ جو در پردہ ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ میں ملوث ہے ۔اور اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ امریکہ کا ایٹمی نظام ناپختہ ہاتھوں میں ہے جو دنیا کے لئے خطرے کا باعث ہے
آپ کا تبصرہ