مہرخبررساں ایجنسی نے نیل چینل کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ عراق میں امن و امان برقرار کرنے اور اس کو اقتصادی مدد بہم پہنچانے اور تعمیر نو کے لئے مصر کے تفریحی مقام شرم الشیخ میں بین الاقوامی کانفرنس کا آغاز ہوگیا ہے کانفرنس کا آغاز مصر کے وزیر خارجہ احمد ابوالغیط کی تقریر سے ہوا یہ کانفرنس دو دن تک جاری رہے گی اس میں عراق کے ہمسایہ ممالک سمیت 50 ممالک کے نمائندے شریک ہیں اس کانفرنس کا مقصد عراق کی اقتصادی اور سکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کرنا ہے مصر کے وزیر خارجہ نے کانفرنس میں شرکت کرنے پر مندوبین کا شکریہ ادا کیا اور اجلاس سے خطاب کرنے والے حکام کے نام کا اعلان کیا مصر کےوزیر خارجہ کے افتتاحی خطاب کے بعد عراق کے وزیر اعظم نوری المالکی اور بان کی مون اجلاس سے خطاب کریں گے مصر کے وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم آج یہاں جمع ہوئے ہیں تاکہ عراق کے ساتھ بین الاقوامی برادری کے پیمان کی بھر پور حمایت کرکے اس پر دستخط کریں اور عراقی حکومت اور عوام کو عالمی برادری کی مدد فراہم کریں اس کانفرنس میں ایران کے وفد کی قیادت وزیر خارجہ منوچہرمتکی کررہے ہیں وہ اس کانفرنس سے خطاب بھی کریں گے مبصرین کا خیال ہے کہ عراق کو ویران کرنے میں اب تک امریکہ اور برطانیہ نے اہم کردار ادا کیا ہے اور اب اس کی تعمیر کے لئے درجنوں ممالک جمع ہوئے ہیں دیکھئے نتیجہ کیا نکلتا ہے امریکی حکام کا کام ہی آباد جگہوں کو ویران کرنا ہے
عراق میں امن و امان برقرار کرنے اور اس کو اقتصادی مدد بہم پہنچانے اور تعمیر نو کے لئے مصر کے تفریحی مقام شرم الشیخ میں بین الاقوامی کانفرنس کا آغاز ہوگیا ہے
News ID 480333
آپ کا تبصرہ