مہرخبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی میں ایران کے نمائندے علی اصغر سلطانیہ ایٹمی ایجنسی کے بورڈ کے اجلاس میں ایٹمی ایجنسی کی ذمہ داریوں کو یاد دلاتے ہوئے ایران کی ایٹمی تنصیبات پرحملے کی دھمکیوں پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ایران ایٹمی ایجنسی کے ساتھ باقی ماندہ ابہامات کو دور کرنے کے لئے تیار ہے اور ایٹمی ایجنسی اور دوسرے شرکاء کو یہ ضمانت دینے کے لئے تیار ہے کہ ماضی کی طرح آئندہ بھی ایران کے ایٹمی پروگرام میں کوئی انحراف نہیں ملےگا تاکہ مذاکرات کسی با مقصد نتیجے تک پہنچ سکیں انھوں نے ایران کی طرف سے غیر وابستہ ممالک کے تعاون اور حمایت پر بھی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ایٹمی ایجنسی نے اپنی متعدد رپورٹوں میں اس بات کا واضح اعلان کیا ہے کہ ایران کے ایٹمی پروگرام میں آج تک کوئی انحراف نہیں پایا گیا ہے اور ایٹمی ایجنسی کے اس اعلان سے واضح ہوتا ہے کہ ایران کا ایٹمی پروگرام پر امن مقاصد کے لئے ہے اور ایران بعض جزوی مسائل اور ابہامات کو بھی ایٹمی ایجنسی کے ساتھ مل کر حل کرنے کے لئے تیار ہے اور یہ ضمانت دینے کے لئے بھی ایران آمادہ ہے کہ آئندہ بھی ایران کے ایٹمی پروگرام میں کوئی انحراف نہیں ملےگا لیکن اتنے بڑے تعاون کے باوجود ایران کے ایٹمی معاملے کو فنی میدان سے باہر نکال کر سیاسی میدان پیش کیا گیا جس کی وجہ سے ایٹمی ایجنسی کے کردار پر بھی منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں انھوں نے کہا کہ ایران اپنے بین الاقوامی حقوق سے کبھی دست بردار نہیں ہوگا اور نہ ہی کسی سیاسی اور فوجی دباؤ کے سامنے سر تسلیم خم کرےگا ایران کاایٹمی پروگرام ایٹمی ایجنسی کے قوانین کے مطابق جاری ہے اور جاری رہےگا کیونکہ ایران اس ادارے کے ایک رکن ملک ہے اور اس کو پر امن ایٹمی سرگرمیاں جاری رکھنے کا حق حاصل ہے انھوں نے کہا کہ ایران کے ایٹمی معاملے کو سکیورٹی کونسل میں پیش کرنا ایک تاریخی غلطی تھی جس کے بعد ایٹمی ایجنسی کے کردار پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے اور ایران اپنے ایٹمی معاملے میں کسی بھی قسم کی تبعیض کو قبول نہیں کرےگا
بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی میں ایران کے نمائندے نے کہا ہے کہ
ایران ایٹمی ایجنسی کے ابہامات کو دور کرنے اور مذاکرات کے لئے آمادہ ہے // تہران اپنے بین الاقوامی حقوق میں تبعیض آمیز روش کو ہرگز قبول نہیں کرےگا //ایرا کے ایٹمی معاملے کو سکیورٹی کونسل میں پیش کرنا ایٹمی ایجنسی کی تاریخی غلطی تھی
بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی میں ایران کے نمائندے علی اصغر سلطانیہ نےایٹمی ایجنسی کے بورڈ کے اجلاس میں ایٹمی ایجنسی کی ذمہ داریوں کو یاد دلاتے ہوئے ایران کی ایٹمی تنصیبات پرحملے کی دھمکیوں پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ایران ایٹمی ایجنسی کے ساتھ باقی ماندہ ابہامات کو دور کرنے کے لئے تیار ہے اور ایٹمی ایجنسی اور دیگرفریقوں کو یہ ضمانت دینے کے لئے تیار ہے کہ ماضی کی طرح آئندہ بھی ایران کے ایٹمی پروگرام میں کوئی انحراف نہیں ملےگا تاکہ مذاکرات کسی با مقصد نتیجے تک پہنچ سکیں
News ID 458566
آپ کا تبصرہ