مہرخبررساں ایجنسی نے تاریخ اسلام کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ حمید ابن مسلم کا بیان ہے کہ عمر سعد نے لشکر حسینی پر سب سے پہلے تیر چلایا۔اس کے بعد تیروں کی بارش شروع ہوئی
امام حسین (ع) اور ان کے اصحاب و اعزاء کی حشر آفر یں جنگ
امام حسین (ع) کے موعظہ کا اثر صرف جناب حرپرپڑا۔انھوں نے ابن سعد کے پاس جاکر آخری ارادہ معلوم کیا پھر اپنے گھوڑے کو ایڑ دی اور امام کی خدمت میں حاضر ہوگئے۔ اس کے بعد گھوڑے سے اتر کر امام حسین (ع) کی رکاب کو بوسہ دیا اما م نے حرکومعافی دے کر جنت کی بشارت دی (دمعہ ساکبہ ص۳۳۰ ) میں ہے کہ حرکے ساتھ اس کا بیٹا بھی تھا۔حمید ابن مسلم کا بیان ہے کہ عمر سعد نے لشکر حسینی پر سب سے پہلے تیر چلایا۔اس کے بعد تیروں کی بارش شروع ہوئی۔روضۃ الاحباب میں ہے کہ جناب حرکوقصور ابن کنانہ اور ارشاد میں ہے کہ ایوب مشرح نے ایک کوفی کی مدد سے شہید کیا ہے۔(تفصیل کے لیے ملاخطہ ہو،کتاب"بہتر تارے"۔مولفہ حقیر طبع لاہور۔
امام حسین (ع) اور ان کے اصحاب و اعزاء کی حشر آفر یں جنگ
علامہ عیسیٰ اربلی لکھتے ہیں کہ جناب حرکی شہادت کے بعد عمر سعد کے لشکر سے دونابکار مبارزطلب ہوئے جن کے نام نسیان وسالم تھے۔ان کے مقابلہ کے لیے امام حسین (ع) کے لشکر سے جناب حبیب ابن مظاہر اور یزید ابن حصین برآمد ہوئے اور ان دونوں کو چند حملوں میں فنا کے گھاٹ اتاردیا۔اس کے بعد معقل ابن یزید سامنے آیا۔جناب یزید ابن حصین اور بقول مجلسی بریر ابن خضیر ہمدانی نے اسے قتل کر ڈالا۔پھر مزاحم ابن حریث سامنے آیا۔اسے جناب نافع ابن ہلال نے قتل کر دیا۔
عمرابن سعد نے جب حسینی بہادروں کی شان شجاعت دیکھی تو سمجھ گیا کہ ان سے انفرادی مقابلہ ناممکن ہے۔لہٰذا اجتماعی حملہ کا پروگرام بنایااور اپنے چیف کمانڈر کو حکم دیا کہ کثیر تعداد میں کمان اندازوں کو لا کر یکبارگی تیربارانی کر دے۔چنانچہ اس نے تعمیل حکم کی اور بے شمار تیراندازوں کے ذریعہ سے تیر بارانی شروع کر دی۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ امام حسین (ع) کا تقریباََ تمام لشکر مجروح ہوگیااور ۳۲یا۴۰یا۲۲یا۵۰اصحاب اسی وقت شہید ہوگئے۔
جنگ مغلوبہ کے بعد حضرت امام حسین علیہ السلام اپنے بہادروں کو لے کرجن کی کل تعداد ۳۲ تھی۔میدان میں نکل آئے اور اس بے جگری سے لڑے کہ لشکر مخالف کے چھکے چھوٹ گئے جس طرف حملہ کرتے تھے صفیں صاف ہو جاتی تھیں اور اس حملہ میں بے شمار دشمن موت کے گھاٹ اتاردیئے۔ان بھوکے پیاسے بہادرشیروں نے لشکرمیں ایسی ہلچل مچادی،جس نے افسران تک کے ہاتھ پاؤں پھلا دیئے۔بالآخر لشکر کوفہ کے کمانڈر عروہ بن قیس نے عردہ بن قیس نے عمر ابن سعد کو کہلا بھیجا کہ جلد لشکر اور خصوصاََ تیرانداز بھیجو۔کیونکہ ان تھوڑے سے علوی بہادروں نے ہماری درگت بنادی ہے۔ عمر ابن سعد نے فوراََ ۵۰۰کمان داروں کو حصین ابن نمیر کے ہمراہ عروة بن قیس کی کمک میں بھیج دیا۔ان روباہوں نے پہنچتے ہی تیر بارانی شروع کر دی اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ امام حسین (ع) کے کئی بہادر کام آگئے۔اور تقریباََ کل کے کل پیادہ ہوگئے۔اسی دوران میں عمر ابن سعد نے آوازدی آگ لاؤہم خیموں کو جلائیں گے۔یہ دیکھ کر امام حسین (ع) نے شمر کو پکارا کہ یہ کیا بے حیائی کی جارہی ہے۔اتنے میں شبث ابن اربعی آگیا اور اس نے اس حرکت ناشائستہ سے بازرکھا۔ مورخ ابن اثیرا ور علامہ مجلسی لکھتے ہیں کہ دوران جنگ میں نماز ظہر کا وقت آگیا تو ابوثمامہ صائدی یاصیداوی نے خدمت امام حسین (ع) میں عرض کی مولا اگرچہ ہم دشمنوں میں گھرے ہوئے ہیں،لیکن دل یہی چاہتا ہے کہ نمازظہر ادا کر لی جائے۔امام نے ابوثمامہ کو دعادی اور نماز کا تہیہ فرمایا۔تیر چونکہ مسلسل آرہے تھے اس لیے زہیر ابن قین اور سعیدابن عبداللہ امام حسین (ع) کے سامنے کھڑے ہو کر تیروں کو سینوں پر لینے لگے۔یہاں تک کہ امام حسین (ع) نے نماز تمام فرمالی۔مورخین لکھتے ہیں کہ تلوار اور نیزوں کے زخم کے علاوہ ۱۳ تیر سعید کے سینے میں پیوست ہو گئے۔نماز تمام ہوئی اور جناب سعید بھی دنیا سے رخصت ہوگئے جنگ مغلوبہ کے بعد جو ۳۲۔ اصحاب بچے ان میں سے بعض کے مختصر حالات درج ذیل کئے جاتے۔
حضرت امام حسین (ع) کے مشہوراصحاب اور انکی شہادت
جناب حبیب مظاہر ابن ریاب ابن اشترابن جنجوان ابن فقعس ابن طریف ابن عمر بن قیس ابن حرث ابن ثعلبہ ،ابن ودان ،ابن اسدابوالقاسم الاسدی کے بیٹے امام حسین(ع) کے بچپنے کے دوست تھے۔انھیں رسالت مآب کے صحابی ہونے کا بھی شرف حاصل تھا۔یہ اصحاب امیرالمومنین میں بھی تھے اور ہر جنگ میں شریک رہے۔انھوں نے کوفہ میں حضرت مسلم بن عقیل کا پورا پورا ساتھ دیا اور یہ شہادت مسلم کے بعد کربلا کو پاپیادہ روانہ ہوکر امام حسین(ع) کی خدمت میں پہنچے تھے کربلا پہنچ کر انھوں نے پوری کوشش کی کہ بنی اسد سے کچھ مدد گار لے آئیں۔لیکن عمر سعد کے لشکر نے راستے مٰیں مزاحمت کی۔شب عاشور ایک شب کی مہلت کے لیے جب حضرت عباس گئے تھے تو حبیب بھی ساتھ تھے۔نماز ظہر عاشورا کے موقع پر حصین ابن نمیر کی بدکلامی کا جواب حبیب ہی نے دیا تھااور اس کے کہنے پر کہ"حسین کی نماز قبول نہ ہوگی،حبیب نے بڑھ کر گھوڑے کے منہ پر تلوار لگائی تھی۔پھر میدان میں مسلسل لوگوں سے لڑتے اور انھیں قتل کرتے رہے۔یہاں تک کہ بدیل ابن حریم عقفائی نے آپ پر تلوار لگائی اور بنی تمیم کے ایک شخص نے نیزہ مارا اور حصین بن نمیر نے سر پر تلوارلگائی۔آپ گھوڑے سے گرپڑے۔اس وقت ایک تمیمی نے سرکاٹ لیا۔حبیب کی شہادت کے بعد امام حسین (ع) نے انتہائی درد انگیز لہجے میں کہا۔اے حبیب میں تم کو اور اپنے اصحاب کو خدا سے لوں گا۔
جنابِ زہیر،قین ابن قیس،نماری بجلی کے بیٹے تھے ۔یہ قوم کے سردار اور رئیس تھے۔۶۰ھ میں امام حسین (ع) کے ساتھ ہوئے۔شب عاشور حضرت عباس(ع) جب ایک شب کی مہلت کے لیے آگے بڑھے تو آپ کے ہمراہ زہیر بھی تھے ۔اما م حسین (ع) کی زندگی میں جب شمر نے خیمہ کے پاس آکر اسے جلانا چاہا تھا۔تو جناب زہیر ہی نے اس سے مقابلہ کرکے اس ارادہ سے باز رکھا تھا،اور نمازظہر کے لیے سعید کے ساتھ زہیر نے بھی امام حسین (ع) کی حفاظت کے لیے سینہ تان دیا تھا۔آپ نے میدان میں زبردست جنگ کی بالآخر کثیر ابن عبداللہ شعبی اور مہاجر ابن اوس تمیمی نے آپ کو شہید کر دیا۔شہادت کے بعد امام حسین (ع) لاش پر تشریف لائے اور کہازہیر خداتم پر رحمت نازل کرے اور تمھارے قاتلوں پر جوبندروں اور ریچھوں کی طرح مسخ ہوگئے ہیں لعنت کرے۔
جناب نافع،ہلال ابن نافع ابن جمل ابن سعد العشیرہ ابن مدحج جملی کے بیٹے تھے۔آپ شریف النفس سردار قوم،بہادر اور قاری قرآن راوی الحدیث تھے۔آپ ہر جنگ میں امیرالمومنین (ع) کے ساتھ رہے کر بلا میں جب حضرت عباس(ع) پانی کی جدوجہد کے لیے نہر پر تشریف لے گئے تھے تو نافع ابن ہلال آپ کے ساتھ تھے۔میدان کا رزار کر بلا میں نافع ابن ہلال نے ۱۲ دشمنوں کو زہر میں بجھے ہوئے تیر سے قتل کیا پھر جب تیر ختم ہو گئے تو تلوار سے لڑنے لگے۔بالآخرتیر بارانی کی گئی اور آپ کے دونوں بازوٹوٹ گئے اور آپ گرفتار ہوکر ابن سعد کے سامنے لائے گئے۔پھر شمر کے ہاتھوں قتل کر دیئے گئے۔
جناب مسلم،عوسجہ ابن سعد ابن ثعلبہ ابن دودان ابن اسد،ابن حزیمہ ابوحجل اسدی سعدی کے بیٹے تھے۔یہ شریف ترین مردم،عابدوزاہد اور صحابی رسول تھے۔اکثر اسلامی جنگوں میں شریک رہے۔کوفہ میں مسلم بن عقیل (ع) کی پوری طاقت سے مدد کی آپ کے ہمراہ مدحج کے چار قبیلے تمیم وہمدان وکندہ و ربیعہ تھے۔جناب ہانی ومسلم (ع) کی شہادت کے بعد اپنے بال بچوں سمیت کر بلا آپہنچے اور امام حسین (ع) کے قدموں میں شرف شہادت سے سرفراز ہوئے۔مورخین کا بیان ہے کہ مسلم ابن عوسجہ نہایت دلیری کے ساتھ جنگ فرمارہے تھے کہ مسلم ابن عبداللہ ضیانی ملعون اور عبداللہ ابن خستکارہ نے مل کر آپ کو شہید کر دیا۔
جنابِ عابس،ابوشبیب بن شاکری ابن ربیعہ بن مالک ابن صعب ابن معاویہ بن کثیربں مالک ابن جشم ابن حاشد ہمدانی کے بیٹے تھے۔آپ نہایت بہادر۔رئیس،عابدشب زندہ دار اور امیرالمومنین (ع) کے مخلص ترین ماننے والوں میں تھے۔آپ نے قبیلہ بنوشاکر پر امیرالمومنین کو بڑا اعتماد تھا۔اسی وجہ سے آپ نے جنگ صفین میں فرمایا تھا کہ اگر قبیلہ بنی شاکر کے ایک ہزار افراد موجود ہوں تو دنیا میں اسلام کے سواکوئی مذہب باقی ہی نہ رہے۔عابس نے کوفہ میں جناب مسلم (ع) کا پورا ساتھ دیااور جب جناب مسلم (ع) کوفہ پہنچے تھے تو آپ نے سب سے پہلے تعاون کا یقین دلایا تھا۔آپ کوفہ سے جناب مسلم کا خط لے کر مکہ گئے تھے اور وہیں سے امام حسین (ع) کے ساتھ ہوگئے اور یوم عاشورا شہید ہو گئے۔آپ میدان میں آئے اور مبازرطلبی کی۔مگر کسی میں دم نہ تھا کہ عابس سے لڑتا بالآخران پر اجتماعی طورپر پتھراؤ کیا۔پھر بے شمار افراد نے مل کر انھیں شہید کر کے سرکاٹ لیا۔
جناب بریر ابن خضیر ہمدانی مشرقی،بنومشرق کے قبیلہ ہمدان کے ایک معمر تابعی تھے۔یہ نہایت بہادر عابدوزاہد اور بے مثل قاری قرآن تھے۔ان کا شمار کوفہ کے شرفا میں تھا۔انھوں نے کوفہ سے مکہ جاکر امام حسین (ع) کی ہمراہی اختیار کی تھی اور تاحیات ساتھ رہے۔شب عاشور پانی لانے میں انھوں نے عظیم جدوجہد کی تھی۔میدان جنگ میں آپ کا مقابلہ یزید ابن معقل سے ہوا،بریر نے اسے قتل کر دیا۔پھر رضی ابن منقذعبدی سامنے آیا۔آپ نے زمین پر دے مارا اتنے میں کعب ابن جابر ازدی نے آپ کی پشت میں نیزہ مارا اورآپ نے اس رضی کی ناک دانت سے کاٹ لی جس کے سینے پر سوار تھے۔کعب کانیزہ بریر کی پشت میں رہ گیا۔اور اس نے تلوار سے بریرکوشہیدکردیا۔
آپ کا تبصرہ