مہرخبررساں ایجنسی نے ایسوسی ایٹڈ پریس کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ امریکی نائب وزیر خارجہ نکولس برنس نے کہا ہے کہ امریکہ کا دوسرا طیارہ بردار جنگی بیڑا مشرقی وسطیٰ کی طرف بڑھ رہا ہے جس کا مقصد ایران پر دباؤ ڈالنا ہے اور اس کو خطے پر غلبہ پیدا رنے سے روکنا ہے امریکی نائب وزیر خارجہ نےدبئی کے تھنک ٹینک گلف ریسرچ سینٹر میں خطاب کرتے ہوئے ایران کے ساتھ براہ راست مذاکرات کو مسترد کردیا اور کہا دونوں ملکوں میں مصالحت اس وقت تک نہیں ہوسکتی جب تک ایران یورینیم کی افزودگی بند نہیں کردیتا امریکی جنگی بیڑا یو ایس ایس جون سی اسٹینس مشرق وسطیٰ کی طرف بڑھ رہا ہے۔ جبکہ یو ایس ایس ڈی آئزن ہاور پہلے ہی خلیج میں موجود ہے۔
مبصرین کا خیال ہے کہ امریکہ ایران پر نفسیاتی دباؤ بڑھاناچاہتا ہے لیکن ایران نے واضح کردیا ہے کہ وہ امریکہ کی جارحانہ پالیسی کے سامنے سرتسلیم خم نہیں کرے گا وہ صدام تھا جس نے ایک گولی بھی امریکہ کی طرف فائر نہیں کی اور صدام کے صدارتی گارڈ ز نے امریکہ کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے تھے اور اس کی اصل وجہ یہی تھی کہ صدام کو امریکہ نے ہی پالا پوسا تھا لہذا صدام نے اپنے آقا کے سامنے ہتھیار پھینک دیئےلیکن ایران پر امریکہ کا کوئی احسان نہیں ہے امریکہ نے آج تک ایران کے خلاف معاندانہ پالیسی جاری رکھی ہوئی ہے اور اسکے ہرمعاندانہ اور جارحانہ اقدام کا ایران منہ توڑ جواب دے گا جس سے پورے خلیج میں آگ شعلے بھڑک سکتے ہیں
آپ کا تبصرہ